خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااور کراچی بہتا رہا!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

اور کراچی بہتا رہا!

از سائیٹ ایڈمن جولائی 31, 2022
از سائیٹ ایڈمن جولائی 31, 2022 0 تبصرے 61 مناظر
62

دنیا جہان کی طرح پاکستان میں بھی مکانات اور رہنے کیلئے بنائے گئی رہائشگاہیں موسموں کی مناسبت سے بنائی جاتی ہیں ۔ وہ علاقے جہاں بارشیں یا برفباری ہوتی ہے وہاں مخصوص چھتوں والے مکان بنائے جاتے ہیں تاکہ پانی یا برف زیادہ دیر نا ٹہر سکے ، اسی طرح سے میدانی علاقوں میں بنائے جانے والے گھروں میں ہوا کے گزر کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ علاقوں کی آبادی سے قبل تمام تر نظاموں کو وہاں بسنے والی آبادی کے لحاظ سے منظم کیا جاتا ہے تاکہ علاقے سے خصوصی طور پر نکاسی آب اور ترسیل ِ آب کیلئے کسی رکاوٹ کا سامنا نا کرنا پڑے ،اسی طرح سے باقاعدہ راستے اور گھروں کی حدود کا تعین اور اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جاتا ہے ۔ ہڑپہ اور موہنجو دڑو کے کھنڈرات میں نکاسی آب کیلئے بنایا گیا نظام اور راستوں کی پائیداری خصوصی توجہ اپنی جانب مبذول کرتی ہے جو اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ اس وقت کے منتظمین کس قدر جہاں دیدہ اور مخلص تھے ۔ پاکستان میں ایسی بہت ساری سوسائیٹیز اور کالونیاں موجود ہیں جہاں کا نظام ِ زندگی ، عمومی طرز ِ زندگی سے مکمل طور پر نا صرف الگ دیکھائی دیتا ہے بلکہ یہ سوچنے پر بھی مجبور کردیتا ہے کہ یہ اسی شہر اور علاقے میں واقع ہیں کہ جہاں پر عام مکین عام علاقوں میں رہتے ہیں ۔

سب سے پہلے تو یہ جان لیجئے کہ پاکستان کے حکمرانوں اور منصوبہ بندی سازوں نے پانی کے ذخائر نا بنا کر ایک تاریخی غلطی کر دی ہے ، جس کے نتیجے میں پاکستان میں ہونے والی بارشوں اور گرمیوں میں برف کے پگھلنے والے برف کے تودوں کی صورت میں پانی کی خطیر مقدار ضائع ہوتی جا رہی ہے اور اس قابل استعمال پانی کو سمندر بدر کر دیا جاتا ہے ۔ پاکستان میں سالانہ بارشوں کا تناسب گزشتہ چار سالوں سے بڑھ گیا ہے خصوصی طور پر شہر کراچی کا جو یقینا کائیناتی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے عمل میں آیا ہے ۔ آج کل انگلینڈ میں درجہ حرارت کے غیر معمولی سطح پر بڑھنے سے تاریخ کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں جو اس بات کی عکاسی ہے کہ موسمی تغیرات نے ساری دنیا میں اثر انداز ہونا ہے ۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کا کسی ملک چاہے وہ کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نا ہو،کے پاس کوئی لاءحہ عمل موجود نہیں ہے جس کا منہ ثبوت کورونا جیسی قدرتی وباء میں مکمل طور پر سب کے سامنے آچکا ہے ۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک سنگین حالات کو بہت منظم طریقے سے سنبھالنے کا ہنر جانتے ہیں ۔ ہم یہاں کسی ماحولیاتی تبدیلیوں یا قدرتی آفات پر فل حال کچھ نہیں لکھنا چاہتے کیونکہ ہمارے ملک میں جب کبھی بھی حالات کسی بھی نوعیت میں سگین ہوتے ہیں تو نا تو انتظامیہ دیکھائی دیتی ہے ، ناہی عوامی نمائندوں کا دور دور تک ناموں نشان دیکھائی دیتا ہے بس دیکھائی دیتا ہے تو عوام کا اپنی مدد آپ کے تحت حالات سے مقابلہ کرنا ۔ پچھلے چار سالوں سے پاکستان میں اور خصوصی طور پر شہر کراچی میں اللہ کی رحمت بہت زیادہ برس رہی ہے اور جو آخر کار بدترین زحمت کی شکل اختیار کرلیتی ہے ۔ یوں تو بلوچستان کا حال باقی تینوں صوبوں سے زیادہ بدترین ہوتا ہے اور کتنا بدترین ہوتا ہے اس کا بھی صرف اندازہ ہی لگایا جاتا ہے کیوں کہ یہ وہ صوبہ ہے جو وسائل کی عدم دستیابی میں پہلے نمبر پر ہے ۔ اطلاعات کے مطابق اور کچھ سماجی ابلاغ کے مرہون منت جہاں بلوچستان میں حالیہ بارشوں میں خاطر خواہ مالی نقصان ہوا ہے اسی طرح سے جانی نقصان بھی بہت زیادہ ہوا ہے لیکن بد قسمتی سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ خیبر پختون خواہ اور پنجاب کسی حد تک بارشوں کی صورتحال سے بتدریج قدرے بہتر طریقے سے سنبھلنے کا ہنر جانتے ہیں ۔ سند ھ وہ صوبہ ہے جہاں وسائل کی تو کوئی کمی نہیں ہے، جہاں سے ملک کی معیشت کا پہیہ چلتا ہے لیکن وسائل کو بروئے کار لانے والوں کا بدترین فقدان ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر جانا جانے والا شہر جسے کبھی روشنیوں کے شہر کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا ، دنیا کی بہترین اور قدرتی بندرگاہ کا حامل شہر کراچی ہر دفعہ ہی بارشوں میں تقریباً بہہ ہی جاتا ہے جسے ہر بار کراچی والے سمیٹ کر لاتے ہیں ۔ سیاسی فنکار جب بارش کا سلسلہ جاری ہوتا ہے بڑی بڑی سرکاری گاڑیوں میں نکلتے ہیں تصویریں اور ویڈیوبنواتے ہیں اور پھر ایسے غائب ہوتے ہیں جیسا کہ آپ خوب جانتے ہیں ۔ انتظامی امور پر سند ھ کی انتظامیہ کے عبور کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کے بارشوں کی پیشنگوئی ہونے کے باوجود سڑکوں پر معمولی پیوندکاری کا کام کروایا گیا ، بھلا ایسے موسم میں اس طرح کے کام کوئی انتہائی غیر منظم فرد ہی کروا سکتا ہے (گوکہ وہ جواب اور جواز بھی پیش کرتے رہینگے) ۔ سندھ میں ہونے والے چوبیس جولائی کے بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کا آگے بڑھنا یقینا سندھ اور خصوصاً کراچی کے لئے بہتر ثابت ہوگا، موجودہ بارشوں نے کام کرنے والوں اور دعوی کرنے والوں کی کارگردگی کھول کر عوام کے سامنے رکھ دی ہے ۔ تقریباً شہر کی ساری سڑکیں انتہائی بے بسی کی شکل اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ بارش کو ختم ہوئے چار دن سے زیادہ ہوچکے ہیں لیکن تاحال اہلیان ِکراچی بری طرح سے سڑکوں میں بدترین ٹریفک کی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں ۔ کراچی کا سب سے اہم علاقہ جسے ڈیفینس ہاءوسنگ آتھارٹی کے نام سے جانا جاتا ہے کسی سیلاب زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہا ہے ۔

کورنگی کراچی کا ایک انہتائی اہم صنعتی علاقہ ہے اور جہاں کراچی کے دوسرے علاقوں سے لوگ روزگار کیلئے روزانہ سفر کرتے ہیں سب سے پہلے تو پبلک ٹرانسپورٹ کی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے جانے والوں نے اپنے ذاتی بندوبست سے اپنے روزگار پر پہنچنا ہے ۔ کورنگی کو باقی شہر سے ملانے والے چار اہم راستے ہیں اور چاروں راستے ملیر ندی سے ہوکر کورنگی میں داخل ہوتے ہیں ۔ ان چار میں سے دوپر پل تعمیر ہیں اور دو ندی سے ہوکرکورنگی میں داخل ہوتے ہیں ۔ ایک راستہ شاہ فیصل کالونی والے پل سے ہوکر جاتا ہے ، دوسرا راستہ جام صادق پل سے جاتا ہے باقی دو راستے جو ندی سے ہوکر جاتے ہیں جو عمومی طور پر سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں ، بارش کے دنوں میں ان اہم راستوں پر پانی آجانے کی وجہ سے بند ہوجاتے ہیں اور پانی ان راستوں کو اتنا خراب کردیتا ہے کہ بارش کے ایک ایک ہفتے بعد تک ان راستوں کی مرمت کا کام جاری رہتا ہے ۔ جس کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق اسی (۰۸) فیصد ٹریفک جام صادق پل سے گزرتا ہے اور بیس (۰۲) فیصد ٹریفک شاہ فیصل کا راستہ استعمال کرتے ہیں ۔ اسی (۰۸) فیصد ٹریفک کی روانی اتنی بری طرح سے متاثر ہوتی ہے کہ اپنے روزگار پر پہنچنا اور وہاں پہنچ کر کام کرنا ایک طرف رہ جاتا ہے اور ایسی ہی صورتحال کاواپسی پر بھی کرنا پڑتا ۔ اس ساری صورتحال میں کسی قسم کی انتظامیہ کی حکمت عملی کہیں نہیں دیکھائی دیتی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ٹریفک کی روانی بحال کرنے کی کوششیں کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ اس کمر توڑ مہنگائی میں ایندھن کا اسقدر ضائع ہونا عوام کیلئے الگ تکلیف دہ عمل ہوتا ہے ، اکثر گاڑیاں ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے ان راستوں میں مزید مشکلات پیدا کردیتی ہیں ۔ جگہ جگہ ٹریفک کنٹرول کرنے والا عملہ بے بس کھڑا دیکھائی دیتا ہے ، وہ اپنی سی کوشش کرکے ایک طرف ہوکر یا تو اپنے موبائل میں مصروف ہوتے ہیں یا پھر حسب عادت ہاتھ سے چلتے رہنے کا اشارہ کرتے رہتے ہیں ۔ جہاں بارشوں میں بجلی کے کرنٹ سے یا پھر کہیں چھت گرنے سے یا پھر کوئی کھلے گٹروں میں گرنے سے ہلاک ہوئے تو معلوم نہیں کتنے ہی لوگ ان ٹریفک میں پھنسی ایمبیولینس میں اپنی زندگی کی بازی ہار گئے ہونگے ۔ حکومت کا صرف ایک بیان جو سامنے آتا ہے کہ بارش کے موسم میں عوام اپنے گھروں میں رہیں بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ یومیہ روزگار پر کام کرنے والا کیسے اپنے گھر میں بیٹھ کر اپنے بھوک سے مرجھائے ہوئے بچوں کے چہرے دیکھ سکتا ہے ۔ سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی نمبر بنانے کیلئے تو جز وقتی دیکھائی دیتی ہیں اسی طرح فلاحی ادارے اپنے مطلب کیلئے منظر ِ عام پر آتے ہیں پھر ایک وقت آتا ہے کہ کراچی صرف بہہ رہا ہوتا ہے اور کوئی اس بہاءو کو روکنے کیلئے نہیں آتا ۔ اس ساری صورتحال سے خوس اسلوبی سے نمٹنے کا ایک آسان فارمولہ یہ ہے کہ تمام کورنگی میں کام کرنے والے ادارے ایک متفقہ حکمت عملی سے کارخانوں اور دفتروں کے اوقات کار تبدیل کرلیں ۔ جیسے ایک آٹھ سے چار کرلے ایک ساڑھے آٹھ سے ساڑھے چار کرلے ۔ کراچی تو معلوم نہیں کب تکہ پہتا رہے گا ۔ بہر حال بلدیاتی انتخابات میں ووٹ اسے دیجئے گا جس تک آپ کی رسائی ہوجو کسی بھی مشکل وقت میں آپکی پہنچ میں ہو ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خودی سے پا کے اب فرار دور رہنا ہے
  • اجل کے لمحو
  • اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا
  • سُن تو سہی شکستگی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شجرِ ثمر بار، فرہاد احمد فگار
پچھلی پوسٹ
قسط وار ناول بہرام: پہلی قسط

متعلقہ پوسٹس

اپنا کردار نبھایا ہے سمندر میں نے

مئی 22, 2020

سماعتوں میں زباں سے نکل کے آتا ہے

نومبر 12, 2019

چشمِ نم تیری حیرت میں

فروری 5, 2020

تلقارمس

جون 9, 2020

کوکھ جلی

مارچ 29, 2020

چچا چھکن نے دھوبن کو کپڑے دیے

اگست 22, 2022

21 شہادتیں اور ایک قوم کی آنکھوں میں نمی

جون 13, 2026

اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے

اگست 15, 2020

نصیر اور خدیجہ

اپریل 1, 2023

میں تیرے ہجر میں یوں بھی دہائی دیتا نہیں

دسمبر 2, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کتاب کا خلاصہ

جنوری 15, 2020

زندگی کا سفر

اگست 10, 2025

کھردری گرد کی کھال

جنوری 23, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں