خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمد یوسف برکاتی

اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 5, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 5, 2025 0 تبصرے 66 مناظر
67

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
ایک اہل ایمان مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اس عارضی دنیا میں بھیجنے اور زندگی جیسی نعمت عطا کرنے کا ہمارے رب العزت کا کیا مقصد تھا ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کرہ ارض کو وجود بخشنے کے لیئے جس ہستی کو اپنا محبوب بنایا حبیب کا درجہ دیا وجہہ تخلیق کائنات بنایا اور پھر ہمارے لیئے رحمت بناکر بھیجا تو کیوں ؟ صرف اس لیئے کہ ہم اس رب کے احکامات پر عمل کریں اس رب العالمین کے حبیب کریم ﷺ کی سنتوں پر عمل کریں اللہ تعالیٰ نے جن صحابہ کرام علیہم الرضوان اولیاء کرام تابعین تبہ تابعین اور بزرگان دین ہمارے رہنمائی کے لیئے بھیجے ان کی تعلیمات سے استفادہ حاصل کرسکیں ان کے چلنے پھرنے بات کرنے یہاں تک کہ ان کے ہر عمل کو اپنا کر اپنی اس عارضی دنیاوی زندگی اور آخرت کی زندگی اللہ کی مرضی کے تابع کرسکیں لیکن ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ اگر ہم اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے آپ سے ہی پوچھیں کہ کیا ہم ایسا کررہے ہیں اپنے کسی بھی طرز عمل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہمیں جس مقصد کے لیئے باری تعالیٰ نے اس دنیا میں بھیجا کیا ہم اس پر پورا اترے یا اترنے کی کوشش کی ؟ یقیناً جواب میں ہمارا سر شرمندگی کی وجہ سے گریبان سے باہر ہی نہیں آئے گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں نہ ہمارے رویوں میں وہ بات ہے جس کی تعلیم ہمارے اسلاف نے ہمیں دی نہ ہی ہمارے اخلاق وہ ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حبیب کریم ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ بروز محشر میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جس اخلاق اچھے ہوں گے نہ ہی ہماری تعلیم وہ ہے جسے حاصل کرنے کے لیئے ہمارے بزرگان دین کئی کئی برسوں تک گھر سے دور رہ کر مشقت کرتے تھے نہ ہی ہمارے پاس صبر ہے نہ ہی ہمارے پاس شکر گزاری ہے نہ ہی ہمارے اندر برداشت کی طاقت ہے پھر ہم کیوں اتنے مطمعن نظر آتے ہیں کیا ہمیں مطمعن اور خوش ہونا چاہیئے ہرگز نہیں کبھی نہیں حضور ﷺ کے زمانے کی ہم بات کریں یا صحابہ کرام علیہم الرضوان کے زمانے کی اولیاء کرام کے زمانے کی بات کریں یا بزرگان دین کے وقت کی تو یہ اپنے معمولی سے معمولی عمل سے بھی دشمن کو دوست بنالیا کرتے تھے غیر مسلموں کو اپنے رویوں اور اخلاق کی وجہ سے دائرہ اسلام میں داخل کرلیا کرتے تھے لیکن بدقسمتی سے ہم ان کیا کررہے ہیں نہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رہا اور نہ ہی توکل اس بات کی ایک جھلک یہاں میں ایک واقعہ میں آپ کو بتانے کی کوشش کرتا ہوں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ایک شخص جو نماز پڑھنے میں ہمیشہ سستی کا مظاہرہ کرتا تھا لیکن ایک دن ایک دوست کے کہنے پر اذان کی آواز سن کر مسجد کی طرف جانے لگا تاکہ وضو کرکے نماز پڑھ سکے ابھی جماعت چل رہی تھی تو موبائل کے بجنے کی آواز آنا شروع ہوگئی اور یہ آواز اسی شخص کے جیب میں رکھے موبائل سے آرہی تھی جسے وہ بند کرنا بھول گیا تھا جب نماز مکمل ہوگئی تو سب سے پہلے امام صاحب نے اسے خوب سنائی امام صاحب کو دیکھ کر دوسروں نے بھی اس شخص کو برا بھلا کہنا شروع کردیا اس نے اپنے دوست کی طرف دیکھا اور اٹھ کر مسجد کے باہر چلا گیا وہ شرمندہ بھی تھا اور غصہ میں بھی بہرحال اسی دن رات کو ایک دوسرے دوست کے کہنے پر وہ اس کے ساتھ ایک کلب میں چلا گیا وہاں پر اسے ایک گلاس میں ڈرنک پیش کی گئی لیکن اتفاق سے اس کے ہاتھ سے ٹھوکر لگی اور وہ گلاس گرکر ٹوٹ گیا اسی وقت کلب کا منیجر وہاں پہنچا اور کہنے لگا کہ سر آپ کو لگی تو نہیں اور پھر ویٹر سے کہا کہ سر کو دوسرا گلاس دےدو وہ بڑا حیران ہوا اور جب وہ باہر آیا تو سوچنے لگا کہ میں یہاں روز آئؤں گا کم ازکم لوگ عزت تو کرتے ہیں بیعزت تو نہیں کرتے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہاں بات غلط یا صحیح کی نہیں ہے بلکہ اپنے رویوں اور اپنے اخلاق کی ہے ہم یہ بات آرام اور نرم لہجہ میں بھی کرسکتے تھے سب کے سامنے کہنے کی بجائے اکیلے میں بھی کرسکتے تھے ایک ایسا شخص جو نماز کے لیئے آنے میں ویسے ہی سستی کرتا ہے اگر ہم اپنے غلط لب و لہجہ کی وجہ سے اس کو سب کے سامنے اس طرح ذلیل کرتے ہیں تو کیا وہ دوبارہ مسجد کی طرف رخ کرے گا اگر ہم کسی بھٹکے ہوئے اہل ایمان مسلمان کو صحیح راستے پر لانے کی طاقت نہیں رکھتے تو ہمارے اسلاف کی طرح غیر مسلموں کو دائرہ اسلام تک کیسے لیکر آئیں گے جو صرف اپنے انداز سے اپنے رویوں سے اور اپنے اخلاق سے پتھر جیسے لوگوں کو بھی موم کردیا کرتے تھے یہ سب لوگ ہماری رہنمائی کے لیئے تھے اور ہیں ان کی تعلیمات ہمارے لیئے ہیں ان کا ہر ہر عمل ہمارے لیئے مشعل راہ ہے پھر ہمارے اندر یہ سب عوامل کیوں پیدا نہیں ہوتے ؟
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارا یہ انا پرست رویہ ہمارا یہ تکبرانہ رویہ اپنے ایمان کو کھو دینے کا سبب بن سکتا ہے جو انتہائی خطرناک ہے لہذہ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنے اسلاف سے یہ ہی کچھ ملا ہے اب دیکھیئے شہنشاہ بغداد حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایک شخص تھا جو گانے گایا کرتا تھا آواز سریلی تھی لہذہ لوگ اس کو سننے کے لیئے جمع ہوجاتے تھے حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے سمجھاتے کہ تو گانے نہ گایا کر یہ اچھی بات نہیں ہے تو وہ الٹا لوگوں کو کہتا کہ لوگ مجھے پسند کرتے ہیں مجھے سننے کے لیئے جمع ہوتے ہیں اس لیئے انہیں جلن ہوتی ہے ( معاذ اللہ) لیکن حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی سخت لہجہ نہیں اپنایا اور جب دیکھا کہ وہ نہیں مانتا تو مسکرا کر کہا ٹھیک ہے جائو جو کرنا ہے کرو اور اللہ تعالیٰ سے اس کے لیئے ہدایت کی دعا کی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں وقت گزرتا گیا اور گزرتے وقت کے ساتھ وہ گانے والا بوڑھا ہوگیا اب اس کی آواز میں بھی وہ بات نہیں تھی جو پہلے تھی اور لوگوں نے بھی اب اس کی جگہ دوسرے کو سننا شروع کردیا اور جب تک وہ گاتا رہا حالات صحیح تھے سب گھر والے بھی خوش تھے لیکن جب حالات بدلے تو سب کچھ بدل گیا سب دور ہونے لگے اور گھر والے بھی اب اس سے تنگ تھے جب اسے اپنے اندر اکیلا پن محسوس ہونے لگا تو وہ قبرستان میں جاکر بیٹھ جاتا ایک دفعہ یوں ہی حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبرستان کے قریب سے گزرے تو اس شخص کو دور سے بری حالت میں دیکھا تو واپس آکر ایک غلام کو سو دینار دیئے اور کہا کہ اس شخص کو دے آئے اور یہ نہ بتائے کہ کس نے دیئے ہیں لہذہ وہ غلام اس شخص کے پاس قبرستان پہنچا تو اس شخص کو دیکھا کہ اس کی بہت بری حالت ہے نہ کھانے کے لیئے کچھ تھا نہ پہننے کے لیئے کچھ جب اس نے وہ سو دینار دیئے تو اس نے بوڑھی آنکھوں اور کمزوری کی حالت میں آہستہ آہستہ سے آنکھیں کھولیں اور پوچھا کہ کس نے بھیجے ہیں تو غلام نے کہا کہ مجھے صرف یہ دینار آپ تک پہنچانے کا حکم تھا نام بتانے کا حکم نہیں تو اس شخص نے کہا کہ میں بھی بغداد کا رہنے والا ہوں جس طرح یہاں کے کونے کونے سے واقف ہوں بالکل اسی طرح یہاں کے ایک ایک شخص سے واقف ہوں میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ مجھ پر آج جب پورا بغداد ترس نہیں کھارہا تو پھر مجھ پر یہ مہربانی کون کرسکتا ہے یہ صرف اور صرف غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ہیں جو یہ کام کرسکتے ہیں یہ کرم نوازی صرف وہ ہی کرسکتے ہیں اس گانے والے بوڑھے شخص کی یہ بات سن کر وہ غلام وہاں سے چلاگیا تو وہ شخص بھی اس کے پیچھے ہولیا اور یوں وہ بھی حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربار میں جاپہنچا جب وہ پڑھانے میں مصروف تھے تو سامنے کھڑا ہوگیا حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اسے دیکھا تو فرمایا ہاں بھئی کیسے آنا ہوا ؟ میں تمہارے لیئے کیا کرسکتا ہوں ؟ تو وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پائوں پڑ گیا اور کہنے لگا کہ اے عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو ہی سچا وارث ہے اپنے نبی حضور ﷺ کا لیکن میں اب اس بیماری میں بوڑھے ہوکر توبہ کرلوں تو رب العزت میری توبہ قبول کرلے گا ؟ تو حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تو اگر صدق دل سے تو توبہ کرلے گا تو تیری توبہ بھی قبول ہوگی اور میرا رب تجھے نیک بندوں میں شامل بھی کرلے گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ ہے رویہ یہ ہے انداز اور یہ ہے طریقہ کسی بھٹکے ہوئے کو راہ راست پر لانے کا جب تک ہم اپنے رویہ میں مثبت انداز نہیں لائیں گے جب تک اپنے اچھے اخلاق سے کسی کا دل نہیں جیت لیتے تب تک بدقسمتی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑے گی اور ہم کوئی نیک عمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے ٹھنڈے لہجے نرم مزاجی اور عاجزی ہی ہمارے رویہ میں تبدیلی لا سکتے ہیں ہمارا توکل اپنے رب پر مظبوط بناسکتے ہیں اور رب العالمین کی ذات پر کامل یقین ہی ہم سے دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے بس ہمیں اپنے رب تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا ہوگا اس کے حبیب کریم ﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا جیسے آگے ایک واقعہ میں ہوا
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ایک شخص ایک تندور والے کے پاس کلچے لینے کے لیئے گیا وہاں اس نے دیکھا کہ جو شخص تندور پر بیٹھے کلچے تیار کررہا تھا وہ سب لوگوں سے لڑنے کے انداز سے بات کررہا تھا یعنی چڑچڑے پن کے انداز سے جس کی وجہ سے کبھی وہ کلچے جلادیتا تو کبھی کچے چھوڑ دیتا وہاں پر موجود ہر شخص اس سے جلدی جلدی کلچے مانگ رہا تھا اور وہ غصے میں کہتا کہ بھائی تیار کررہا ہوں ذرا صبر کرو اور بڑبڑاتے ہوئے اس کے چہرے سے غصہ جھلک رہا تھا وہ شخص بڑے غور سے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا پھر جب اس کی باری آئی اور اس تندور والے نے کلچے نکالے تو کچھ لال تھے اس شخص نے اپنے کلچے دیکھ کر تندور والے سے کہا کہ بھئی واہ ایسے کلچے تم ہی بناسکتے ہو اس پورے علاقے میں تمہارے جیسے کلچے کوئی نہیں بناتا اس شخص کی یہ بات سن کر جیسے تندور والے کے چہرے پر یکدم تبدیلی آگئی جیسے اسے کوئی نئی توانائی مل گئی ہو اس نے مسکراتے ہوئے کہا صاحب ہر کسی کو جلدی ہے کسی کو صبر نہیں اور لوگ صبر سے کھڑے ہوں تو سب کو مال اچھا ملے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں وہ شخص کہنے لگا کہ اس دن کے بعد میں جب بھی اس کے پاس گیا ہوں اس نے بڑے اچھے تل والے کلچے بناکر دیئے اگر کوئی شاگرد تندور پر ہو اور میں پہنچ جائوں تو وہ اس کو ہٹا کر خود میرے لیئے کلچے تیار کرتا اور وہاں پر موجود لوگ مجھے وی آئی پی سمجھتے میں نے سوچا کہ ابھی تو میں نے حضور ﷺ کی ایک سنت پر عمل کیا ہے جس میں اپنے رویہ کو صحیح کرکے اچھے اخلاق سے بات کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس کی وجہ سے مجھے اتنی اچھی سروس ملی ہے اگر دوسری سنتوں پر عمل شروع کردوں تو یہ دنیا ہی میرے لیئے جنت بن جائے گی اور ہر شخص میرا گرویدہ ہو جائے گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ نتیجہ ہے رویوں میں تبدیلی کا میرا ذاتی تجربہ ہے کہ آج کے دور میں بھی ہمیں اپنے اطراف ایسے لوگ ضرور میسر ہوں گے جو اپنے اچھے اخلاق اور مثبت رویوں کی وجہ سے لوگوں کی نظروں میں عزت و وقار کے ساتھ دیکھے جاتے ہوں گے جن سے ملنے کے لیئے جستجو اور مشقت تو کرنی پڑتی ہوگی لیکن جب ملاقات ہو جائے تو ہمیں سکون نصیب ہوجاتا ہے ہمارا دل کافی حد تک مطمئن ہوجاتا ہے اور ایسے لوگوں سے الحمدللہ میرا واسطہ پڑا ہے اور میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اگر آپ کو ایسے لوگ نہیں ملتے تو آپ حضور ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیجیئے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی زندگیوں کو پڑھیئے اولیاء کرام اور بزرگان دین کے حالات زندگی پر غور و فکر کیجیئے آپ کو ان لوگوں کے حالات و واقعات کو پڑھنے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا رویوں کا استعمال اچھے اخلاق کے طریقے نرم لہجے کے فوائد عاجزی و انکساری کا انعام یہ سب کچھ آپ کو یقیناَ یہیں ملے گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اگر آپ کے اندر غصہ ہے تو اسے پی کر ٹھنڈے ہو جائیں اگر زبان سخت ہے تو اسے نرمی میں تبدیل کرلیں چڑچڑاپن ہے تو اسے آہستہ آہستہ ختم کرنے کی کوشش کریں اپنے سخت رویوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں مشکل ضرور ہوگا لیکن ناممکن نہیں ہوگا کیونکہ کوشش کرنا اور وہ بھی اچھی کوشش یہ انسانوں کا کام ہے جبکہ اس پر کامیابی اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر ہر اس عمل پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو ہمارے اسلاف کے اندر موجود تھیں مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے خصوصی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ستاروں سے آگے
  • ہماری اصل اوقات
  • نیا عزم
  • لباس ہے پھٹا ہوا، غُبار میں اٹا ہوا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پرورش کے امتحان
پچھلی پوسٹ
سرِ کریک

متعلقہ پوسٹس

قصہ ہست و بود سے آگے نکل گیا

دسمبر 31, 2021

خیمے ، لہو ، نوکِ سناں

مئی 20, 2020

میں اب آزاد ہوں

جنوری 3, 2022

گل بدن خاک نشینوں سے

جنوری 8, 2025

توبۃ النصوح – فصل اوّل

اکتوبر 28, 2020

دل و نگاہ زمیں کی مثال ہو گئے ہیں

جون 13, 2020

دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ

جولائی 1, 2024

کار دنیا سے یا اس کار زیاں سے آگے

نومبر 11, 2025

جنسی ہراسمنٹ پر گالیاں، تھپڑ اور ویڈیو

نومبر 11, 2019

بریدہ سر تھے مرے خواب

نومبر 17, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زمینی فیصلوں کو آسمانوں میں نہیں...

جون 8, 2020

اچھی کتاب

دسمبر 4, 2019

شہر سے جب بھی کوئی شہر...

مئی 4, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں