خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیا محبت اور جنگ میں سب جائز ہے ؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

کیا محبت اور جنگ میں سب جائز ہے ؟

از سائیٹ ایڈمن اپریل 19, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 19, 2026 0 تبصرے 40 مناظر
41

محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔ ایک ایسا جملہ ہے جو بظاہر سادہ مگر اپنے اندر گہری تہذیبی، نفسیاتی اور اخلاقی پیچیدگیاں رکھتا ہے۔ پاکستانی سماج سمیت دنیا کے کئی معاشروں میں یہ فقرہ ایک مُسلمہ سچائی کے طور پر دُہرایا جاتا ہے حالانکہ حقیقت میں یہ ایک متھ ہے یعنی ایسا بیانیہ جسے بار بار دہرانے سے سچ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اس متھ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے محبت اور جنگ کے تصورات کو واضح کیا جائے پھر یہ دیکھا جائے کہ کن حدود تک انسان خود کو جائز قرار دیتا ہے اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
محبت ایک گہرا انسانی جذبہ ہے جو ایثار، قربانی اور تعلق کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ صوفیانہ روایت میں محبت کو خدا تک پہنچنے کا ذریعہ کہا گیا ہے۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ محبت وہ آگ ہے جو ہر غیر کو جلا دیتی ہے۔ اسی طرح اُردو شاعری میں محبت کو پاکیزگی اور سچائی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ میر تقی میر کہتے ہیں۔

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اُسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

یہ تصور واضح کرتا ہے کہ محبت میں شدت تو ہے مگر یہ شدت اخلاقی حدود سے باہر نہیں جاتی۔ اس کے برعکس جنگ ایک ایسا عمل ہے جس میں طاقت اور بقا کا سوال ہوتا ہے۔ جنگ کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں اپنی حفاظت یا توسیع کے لیے لڑتی ہیں۔ کارل فان کلازویٹز نے اپنی کتاب On War میں لکھا کہ "جنگ سیاست کا تسلسل ہے مگر دوسرے ذرائع سے”۔ اس تعریف میں بھی ایک نظم اور اصول کی بات کی گئی ہے نہ کہ مکمل آزادی کی۔
اب سوال یہ ہے کہ پھر یہ متھ کیوں پیدا ہوئی کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے؟
انسان جب شدید جذبات یا خطرے کی کیفیت میں ہوتا ہے تو وہ اپنے اعمال کو جائز ثابت کرنے کے لیے ایسے جملے گھڑتا ہے۔ محبت میں دُھوکا ، جھوٹ یا کسی کو حاصل کرنے کے لیے حدیں پار کرنا اس متھ کے تحت جائز سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح جنگ میں دُشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنا بھی اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔
پاکستانی سماج میں یہ متھ کئی سطحوں پر نظر آتی ہے۔ فلموں، ڈراموں اور کہانیوں میں عاشق کو ہیرو بنا کر دکھایا جاتا ہے چاہے وہ کسی کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کرے یا سماجی اُصول توڑے۔ اسی طرح جنگی بیانیے میں دُشمن کو مکمل برائی کا استعارہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے جس سے ہر اقدام درست محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ بیانیہ جذبات کو اُبھارتا ہے اور سوچنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نہ محبت میں سب جائز ہے اور نہ جنگ میں۔ اخلاقیات ہر حالت میں ایک حد قائم کرتی ہیں۔ محبت اگر کسی کی آزادیِ عزت یا رضامندی کو نظر انداز کرے تو وہ محبت نہیں بلکہ خود غرضی ہے۔ اسی طرح جنگ کے بھی اُصول ہوتے ہیں جنہیں بین الاقوامی قوانین میں واضح کیا گیا ہے جیسے جنیوا کنونشن جس میں شہریوں کے تحفظ اور قیدیوں کے حقوق کی بات کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں بھی سب کچھ جائز نہیں۔
اس متھ کے کچھ وقتی فائدے ضرور ہوتے ہیں۔ یہ افراد کو اپنے عمل کا جواز فراہم کرتی ہے اور مشکل حالات میں فیصلہ کرنا آسان بناتی ہے۔ محبت میں یہ جملہ عاشق کو ہمت دیتا ہے اور جنگ میں سپاہی کو حوصلہ دیتا ہے۔ اس مثبت رُجحان کے برعکس اس کے نقصانات کہیں زیادہ ہیں۔ یہ اخلاقی زوال کا باعث بنتی ہے کیونکہ جب ہر چیز جائز قرار دے دی جائے تو پھر درست اور غلط کا فرق مٹ جاتا ہے۔ اس سے معاشرے میں بد اعتمادی اور انتشار بڑھتا ہے۔
اُردو ادب میں بھی اس متھ کی نفی کی گئی ہے۔ فیض احمد فیض نے محبت کو ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا نام دیا نہ کہ ظلم کرنے کا۔ وہ کہتے ہیں۔

اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

اس مفصل تمہید کا مطلب یہ ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہونے کا تصور دراصل انسانی کمزوریوں کا جواز ہے نہ کہ کوئی ابدی سچائی۔ محبت اگر سچ ہے تو وہ احترام، رضامندی اور ذمہ داری سے منسلک ہوتی ہے نہ کہ دُھوکے، جبر اور خود غرضی سے۔
اسی طرح جنگ اگر ناگزیر بھی ہو تو اس کے اندر بھی اخلاقی حدود اور انسانی قدریں برقرار رہتی ہیں۔
تاریخ اور ادب دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہی معاشرے پائیدار ثابت ہوتے ہیں جو اُصولوں کو بحران کے وقت بھی نہیں چھوڑتے۔
یہ متھ وقتی طور پر جذبات کو سہارا تو دیتی ہے مگر طویل مدتی عمل میں فرد اور معاشرے دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
یہ درست اور غلط کے درمیان حد کو دُھندلا دیتی ہے اور انسان کو اپنی خواہشات کا غلام بنا دیتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایسے بیانیوں کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنے کے بجائے ان پر تنقیدی نظر ڈالیں۔
محبت کو پاکیزگی اور ذمہ داری کے ساتھ اور جنگ کو اُصول و انصاف کے دائرے میں سمجھنا ہی ایک مہذب اور متوازن معاشرے کی بنیاد ہے۔

محسن خالد محسن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سرکس
  • کورونا میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی خدمات
  • زندگی کوچۂ اغیار میں ضم ہونی ہے
  • تصنیف وتالیف کی اہمیت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شہاب نامہ ۔ قدرت اللہ شہاب
پچھلی پوسٹ
مائنوازم کیا ہے ؟

متعلقہ پوسٹس

زیرو سے ہیرو تک کا سفر!

دسمبر 26, 2025

جنتی بیوی

نومبر 25, 2025

نوجوان ورتھر کی داستان غم اور لیلیٰ

جون 2, 2026

خار چھونے سے بھی ہاتھوں میں اُتر جائے گا

اپریل 6, 2026

آنسو کیا ہیں؟

اکتوبر 6, 2025

تاریکیوں میں راہ کا تارہ بنا رہے

جون 21, 2026

نیا قانون

فروری 22, 2017

شمالی علاقہ جات کی سیاحت

جون 2, 2023

نابینا علمائے کرام

دسمبر 12, 2025

عید گاہ

نومبر 5, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہڈیاں اور پھول

اپریل 6, 2020

ہم کس قدر ’’مہذب‘‘ ہیں

جنوری 13, 2020

اب یہ عالم ہے ! بات...

فروری 19, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں