خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامنوجوان ورتھر کی داستان غم اور لیلیٰ
آپ کا سلاماردو تحاریرمدثر عباسمقالات و مضامین

نوجوان ورتھر کی داستان غم اور لیلیٰ

از سائیٹ ایڈمن جون 2, 2026
از سائیٹ ایڈمن جون 2, 2026 0 تبصرے 1 مناظر
2

"نوجوان ورتھر کی داستان غم اور لیلیٰ کے خطوط اک مطالعہ”

محبت ایک ایسی قید ہے جس میں انسان خود کو آزاد محسوس کرتا ہے یا پھر یہ معاشرتی پابندیوں کے درمیان اپنی ذات کو تلاش کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ قاضی عبدالغفار کی کتاب "لیلیٰ کے خطوط” اِس فلسفیانہ اور جذباتی سوالات کا ایک پیچیدہ مگر دلکش امتزاج ہے۔ اِس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری محسوس کرتا ہے کہ لیلیٰ محض ایک فرضی نام نہیں بلکہ اُس دور کی ہر اُس عورت کی نمائندہ ہے جس کے خواب معاشرتی دیواروں کے پیچھے دم توڑ دیتے تھے۔ قاضی عبدالغفار نے لیلیٰ کے قلم سے جو خطوط لکھوائے۔ اُن میں محبت کی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ عورت کے وجودی کرب کی ایک ایسی گونج سنائی دیتی ہے جو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ​کتاب کے ابتدائی اوراق سے ہی مصنف نے اسلوب کی جو ندرت اپنائی ہے وہ اُسے اُردو ادب کے عام رومانوی خطوط سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ کتاب پہلی بار 1932ء میں عالمگیر الکٹرک پریس، لاہور نے ادارہ ادبیات اردو، حیدرآباد کی معاونت سے شائع ہوئی،

قاضی عبد الغفار دسمبر 1889ء میں مراد آباد کے محلہ تمباکو والان میں پیدا ہوئے۔ اُن کا تعلق ایک علمی و دینی خانوادے سے تھا، اُن کے دادا غازی حامد علی مراد آباد کے صدر قاضی تھے اور والد قاضی ابرار احمد اپنے عہد کے معزز افراد میں شمار ہوتے تھے۔ ابتدائی تعلیم مراد آباد ہی میں حاصل کی اور 1905ء میں ہائی اسکول پاس کیا، بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اس وقت علی گڑھ کے تعلیمی ادارے) سے انٹرمیڈیٹ کیا۔ والد کی خواہش پر اُنھوں نے سرکاری ملازمت اختیار کی اور تحصیلدار مقرر ہوئے، مگر سرکاری ملازمت اُن کے مزاج کے خلاف تھی، جلد ہی استعفا دے کر مراد آباد واپس آئے اور صحافت کو اپنا میدان بنایا۔ اُن کی صحافتی تربیت معروف قومی رہنما و صحافی مولانا محمد علی جوہر کی سرپرستی میں ہوئی، جو اپنے اخبار "ہمدرد” کے ذریعے اُردو صحافت کی قیادت کر رہے تھے۔

1921ء میں خلافت کمیٹی کے وفد کے رکن کی حیثیت سے لندن گئے۔ مزاج میں تنوع کے باعث ایک عرصہ مراد آباد میں برتنوں کا کاروبار بھی کیا، اگرچہ یہ تجربہ کامیاب نہ ہوا۔ 1928ء تا 1930ء وہ مراد آباد میونسپل بورڈ کے چیئرمین رہے۔ 1934ء میں حیدر آباد منتقل ہوئے، جہاں محکمہ اطلاعات سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں لکھنؤ اور پھر دہلی گئے۔
تقسیمِ ہند کے بعد 1947ء میں وہ انجمن ترقی اُردو، ہند کے جنرل سیکریٹری مقرر ہوئے۔ مولانا ابو الکلام کی ایما پر اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ اُنہوں نے انجمن کے منتشر ڈھانچے کو دوبارہ منظم کیا، ملک بھر کا دورہ کر کے شاخوں کو فعال بنایا، نئی شاخیں قائم کیں اور انجمن کو ازسرِ نو مستحکم کیا۔

ادبی میدان میں قاضی عبد الغفار ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ ان کی مشہور تصانیف میں:
لیلیٰ کے خطوط، مجنوں کی ڈائری، تین پیسے کی چھوکری، پندار کا صنم کدہ، نقشِ فرنگ آثارِ جمال الدین افغانی، آثارِ ابوالکلام آزاد، حیاتِ اجمل اور خلیل جبران کی ” The Prophet” کا ترجمہ "اس نے کہا” اور گالز وردی کے ناول کا ترجمہ "سیب کا درخت”۔
قاضی عبد الغفار کی نثر میں رومانیت، نفسیاتی بصیرت، سماجی شعور اور طنزیہ بانکپن نمایاں ہے۔ عورت کے سماجی استحصال، طبقاتی فرق، مذہبی ریاکاری اور معاشرتی منافقت جیسے موضوعات ان کے ہاں خاص اہمیت رکھتے ہیں قاضی عبدالغفار 17 جنوری 1956ء کو علی گڑھ میں وفات ہوئے اور علی گڑھ ہی دفن ہوئے۔

لیلیٰ کے خطوط” قاضی عبدالغفار کی ایک مشہور اور اہم تصنیف ہے۔ یہ کتاب اُردو ادب میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ اِس میں ایک طوائف کی زبانی معاشرے کی تلخ حقیقتوں کو خطوط کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میں کل 52 خطوط شامل ہیں۔ اس حوالے سے دختر دلیر بابایش لکھتی ہیں:

"قاضی عبدالغفار نے نہایت دردمندی اور سچے احساس کے ساتھ اُن عورتوں کے دکھ، مسائل اور جذبات کو بیان کیا ہے جو معاشرے میں بدنام سمجھی جاتی ہیں یا بازارِ حسن سے وابستہ ہیں۔ یہ خطوط محض ایک عورت کی داستان نہیں بلکہ پورے سماج کے رویّوں کا آئینہ ہیں۔”

​یہ کتاب ایک ایسی عورت کی کہانی بیان کرتی ہے جو اپنے معاشرے کی فرسودہ روایات کے درمیان گھٹی ہوئی ہے مگر اس کا ذہن آزاد ہے۔ قاضی عبدالغفار نے ایک طوائف کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح ایک حساس انسان اپنے گردوپیش سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ ​لیلیٰ کے خطوط اُردو ادب کے اُن شاہکاروں میں سے ہے جنہیں بار بار پڑھنے سے قاری کو ہر بار ایک نیا زاویہِ فکر ملتا ہے۔ خط سے اقتباس ملاحظہ ہو:

"واعظ صاحب جب چوکی پر تشریف رکھتے ہیں اور مذہب کے مسائل بیان فرماتے ہیں تو خطابت اور بیان کا سارا زور اس مسئلے پر صرف ہوتا ہے کہ بیوی کو خاوند کی اطاعت کس طرح کرنی چاہیے۔ لیکن شوہروں کو اپنی بیویوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا چاہیے اور مردوں پر عورتوں کے کیا کیا حقوق عائد ہوتے ہیں اس کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔۔۔ ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جاتی۔ ہمارے لیے تو دنیا میں صرف ایک مٹھی گیہوں اور آدھ گز کپڑا ہے جو مرد ہم کو عطا کرتا ہے۔ ہماری زندگی کا قانون بھی وہی بناتا ہے اور مذہب کے قانون کے معنی بھی وہی ہم کو سمجھاتا ہے۔”

ترقی پسند ادیب سبط حسن کے مطابق "لیلیٰ کے خطوط” عورت کی جسم فروشی کی داستان نہیں بلکہ ایک فردِ جرم ہے جسے لیلیٰ پوری نسوانی برادری کی جانب سے انسانیت اور انصاف کی عدالت میں پیش کرتی ہے۔ گویا یہ کتاب ایک اجتماعی نسوانی احتجاج کی آواز ہے۔

اس کے علاوہ مغربی ادب میں گوئٹے کی تصانیف میں سب سے اہم اور منفرد اسلوب کی حامل تصنیف (The Sorrows of Young Werther) ہے۔ اس کا اُردو ترجمہ پہلی بار 1933ء میں گوئٹے کی صد سالہ برسی کے موقع پر شائع ہوا۔ جب کہ دوسرا ایڈیشن 1967ء میں اور تیسرا 1984ء میں منظرِ عام پر آیا۔ ​بعد ازاں 2025ء میں بُک کارنر جہلم نے اس ناول کو ورلڈ وائیڈ کلاسکس سیریز کے تحت شائع کیا۔ یہ کتاب اپنے منفرد اندازِ بیان کی وجہ سے شہرت کی حامل ہے۔ جس میں خطوط کے ذریعے نوجوان ورتھر کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ اس کتاب کے حوالے سے ایک واقعہ مشہور ہے کہ یورپ میں نوجوان نسل اس الم ناک رومانی کہانی سے اتنی متاثر ہوئے کہ خودکشی کرنے لگے اور اس ناول نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا۔ اِسی اثر انگیزی کی بنا پر یہ ناول ایک منفرد تخلیق مانا جاتا ہے۔ ترجمہ نگار ڈاکٹر ریاض الحسن اس بارے میں کچھ یوں لکھتے ہیں:

"افسانہ نویسی کا ایسا طرز بھی ہے یعنی افسانے کا ہیرو یا فردِ خاص خطوں کے ذریعہ اپنے واقعات اور احساسات کا اظہار کرتا ہے اور آپ بیتی سناتا ہے۔ اُردو میں اس طرز کا صرف ایک مشہور افسانہ ہے اور مشہور اہل قلم قاضی عبدالغفار مرحوم کا "لیلٰی کے خطوط ہے”
(درج بالا تبصرہ اس کتاب پر ہے)

اس طرح گوئٹے کی تصانیف میں بھی ایک نوجوان ورتھر کی غمِ داستان کو بیان کیا گیا جو ایک طویل انتظار کے جب اُسے محبوب کا قرب حاصل ہوتا ہے اور بوس و کنار کرنے بعد اُسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا اور اسی کشمکش میں رہتے ہوئے اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہیں۔ اِس نفسیاتی کشمکش کے بارے میں چونتیسویں خط میں لکھتی ہے:

"پچھلے خط میں لکھ چکی ہوں کہ مرد اور عورت کی باہمی محبت حکومت، قانون اور مذہب سے آزاد ہے اور اب پھر کہتی ہوں کہ وہ آزاد ہے اور ہمیشہ آزاد رہے گی۔ مذہب کے تعصبات اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتے۔ تم کیوں اس بحث میں مذہب کو لے دوڑے؟۔۔۔”

اسی خط میں وہ مرد کی دوغلی ذہنیت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہتی ہے:

"آج تم ایک بیسوا کو اپنے گھر میں بیوی بنا کر لانا چاہتے ہو اور خدا اور رسول کے احکام بیان کرتے ہو۔۔۔ مگر کل جب تم میری عصمت فروشی کی دکان پر سودا خریدتے تھے تو زنا کی حرمت کی گویا تم کو خبر ہی نہ تھی۔”

اور ورتھر کے بارے میں ریاض الحسن لکھتے ہیں:

"ورتھر ایک نہایت تیز حِس رکھنے والا نوجوان ہے جو شاید گوئٹے کا ہم عمر ہے۔ بلا کا ذہین ہے اور قابلیت بھی ایسی ہے کہ جس کام میں لگا دیا جائے اُس کو اچھی طرح انجام دے مگر پہلو میں ایسا حُسن پرست دل ہے جو پکار پکار کر کہتا ہے کہ:

الفراق اے صبر و تمکین الوداع اے عقل و دین

ناول نوجوان ورتھر کی داستانِ غم کی سب سے بڑی فنی خوبی اِس کا خطوطی انداز ہے۔ پوری کہانی ورتھر کے اپنے دوست ولہیم کے نام لکھے گئے خطوط پر مبنی ہے۔ یہ اسلوب قاری کو ورتھر کے جذباتی سفر میں براہِ راست شریک کر لیتا ہے۔ ہم ورتھر کے خیالات اُس کی تنہائی، فطرت سے اُس کی محبت اور شارلوٹے کے لیے اُس کے دیوانہ وار جذبات کو اس کے اپنے الفاظ میں پڑھتے ہیں جس سے کہانی میں ایک ناقابلِ یقین شدت اور سچائی پیدا ہوتی ہے۔ ​ورتھر کا المیہ صرف ناکام محبت نہیں ہے بلکہ معاشرتی دباؤ بھی ہے۔ وہ ایک حساس فنکار ہے جو دنیا کے فرسودہ ضابطوں اور طبقاتی امتیازات میں خود کو اجنبی محسوس کرتا ہے۔ اُس کی تنہائی اُسے اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اُس کا خودکشی کا فیصلہ محض محبت میں ناکامی نہیں بلکہ اُس بیزاری کا نتیجہ ہے جو اُسے معاشرے کی مصلحت پسندی سے ہوتی ہے۔ اِس ناول میں ورتھر ایک ایسے نوجوان کی علامت ہے جو سماجی اُصولوں، منطق اور عقلیت پرستی کے خلاف اپنے جذباتی طوفان میں گھرا ہوا ہے۔ اُس کی محبت کوئی عام معاشقہ نہیں بلکہ ایک ایسی کیفیت ہے جہاں وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر محبوبہ کے تصور میں گم رہتا ہے۔ ​”نوجوان ورتھر کی داستانِ غم” صرف ایک عاشق کی کہانی نہیں بلکہ یہ انسانی روح کی اُس کیفیت کا نام ہے جو شدید جذباتی تنہائی میں اپنے آپ کو دنیا سے کٹا ہوا محسوس کرتی ہے۔ یہ ناول ہمیں بتاتا ہے کہ جب جذبات عقل کی حدوں کو پار کر جاتے ہیں اور انسان اپنے خوابوں کی دنیا میں حقیقت سے فرار اختیار کر لیتا ہے تو نتیجہ کتنا تباہ کن ہو سکتا ہے۔ آج بھی یہ ناول انسانی نفسیات اور جذبات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اُردو ادب کے قاری ہوں اُن کو چاہیے کہ نوجوان ورتھر کی داستانِ غم اور لیلی کے خطوط کا مطالعہ ضرور کریں۔۔

نوٹ: قاضی عبدالغفار کا تعارف ریختہ سے ماخذ ہے۔
مدثر عباس
29 مئی 2026ء

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کیا تاریخ خود کو دُہراتی ہے؟
  • طلوع ماہتاب
  • پاکستان ؛عالمی تعلقات میں کامیابی کی راہیں
  • ”غزل کروٹ بدلتی ہے” ایک تنقیدی جاج
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کس درجہ اکیلی ہے یہ یکتائی ہماری
پچھلی پوسٹ
خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے

متعلقہ پوسٹس

لالہ امام بخش

فروری 14, 2022

روپ

مئی 21, 2020

نیا آغاز

جنوری 24, 2025

آزمائش یا سزا ( پہلا حصہ)

جون 17, 2025

معاصر اُردو غزل کا نمایندہ شاعر- ارشاد نیازی

جنوری 15, 2021

سرکس کے شیر

ستمبر 20, 2020

نئی جہت

مارچ 1, 2024

شوگر سے آگاہی، راز اور مکمل چھٹکارا

ستمبر 17, 2025

حیرت انگیز معلوماتی اور سبق آموز واقعات

جولائی 28, 2025

پاکستان کے تعلیمی مسائل

جولائی 23, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یہ حادثات ہیں کہ رکتے ہی...

جنوری 29, 2026

اس نے ہونٹوں سے کھینچ لی...

مارچ 18, 2026

یہ جنگ فیصلہ کن موڑ پر...

ستمبر 17, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں