خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکاش اس دنیا سے برائی ختم ہو جائے
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

کاش اس دنیا سے برائی ختم ہو جائے

از سائیٹ ایڈمن جنوری 29, 2024
از سائیٹ ایڈمن جنوری 29, 2024 0 تبصرے 34 مناظر
35

یہ وہ خواہش ہے جو کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ ہمارے آباؤ اجداد تمام قسم کی برائیوں کی موجودگی میں زندگی گزار کر گئے : ہم بھی ان برائیوں کی موجودگی میں زندہ ہیں۔

کاش! اس دنیا سے نشہ آور چیزیں ختم ہو جائیں۔
یہ بھی ممکن نہیں۔
نشہ وہ برائی ہے جو امرا و غربا، شاہ و گدا، دیوتا و پجاری، موحد و ملحد اور علما و جہلا سب کی انجمنوں میں رونق افروز رہی ہے۔ بلکہ وہ سبھائیں جہاں اس کا گزر بھی نہیں ہو سکتا ان کو بیان کرتے وقت بھی اس برائی کی تشبیہات ہی دی جاتی ہیں۔

محفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرے
مئے توحید کو لے کر صفت جام پھرے

کسی نہ کسی شکل میں یہ ہر گھر اور ہر فرد کی زندگی کا حصہ ہے۔ ہمارے علاقوں میں خشخاش کے بیج، بھنگ کے پتے، تمباکو اور نسوار کے استعمال کو برائی سمجھا ہی نہیں جاتا۔ دہی کی لسی پنجاب کا روایتی مشروب ہے جس میں ٹریپٹوفین پایا جاتا ہے جو کہ اس مقدار میں نشے کی تعریف پر تو پورا نہیں اترتا لیکن نیند کا باعث ضرور بنتا ہے۔

الکوحل یا شراب دنیا بھر میں سب سے مقبول نشہ رہا ہے۔ شراب کسی بھی معاشرے سے کبھی بھی ختم نہیں کی جا سکی۔ چائے، کافی اور کوک کی مقبولیت سے پہلے مہمانوں کو پیش کرنے کے لیے دودھ اور پھلوں کے مشروبات کے علاوہ اور کوئی چیز میسر نہیں تھی۔ ان کا ذخیرہ کرنا اور فوری طور پر پیش کرنا بہت مشکل تھا۔ شراب اس مشکل کا واحد حل تھی۔ ویسے بھی اگر کسی نے صحرائی سفر پر جانا ہے، جہاں پانی کی دستیابی مشکوک ہے یا لمبے سمندری سفر پر جانا ہے تو پانی کیسے ذخیرہ کیا جائے گا؟ اس دوران اس میں کائی جم جاتی یا پھر دوسری بیماریوں کے جراثیم اس میں شامل ہو کر مسافروں کو بیمار کر دیتے تھے۔ ان تمام مجبوریوں کا ایک ہی حل تھا: شراب۔

پانی کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے اس میں شراب شامل کر دی جاتی تھی۔

برفانی علاقوں میں مسائل مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ وہاں کئی کئی دن برف پڑتی رہتی ہے۔ کھانے والی اشیا کی قلت ہو جاتی ہے تو صرف گوشت، دودھ اور چربی کام آ سکتی ہے۔ ان حالات میں شراب ایک انتہائی طاقت بخش ڈرنک ہے۔ اس کی کیلورک ویلیو تمام کھائی جانے والی اشیا میں سے چربی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

تمام مذہبی کتابوں میں اس کا ذکر ہے۔ دیوتا اور اوتار اس کے نشے میں دھت نظر آتے ہیں۔ بائبل میں بہت سے بزرگوں کا ذکر ملتا ہے جن کو یہ پلائی گئی یا انہوں نے خود پی۔

مذہبی رہنماؤں میں شراب کتنی مقبول ہے اس کا اندازہ رڈیارڈ کپلنگ کی نظم ’A smuggler‘ s Song ’کے ایک مصرع سے لگایا جا سکتا ہے۔

Brandy for the Parson, ’Baccy for the Clerk
. Laces for a lady; letters for a spy
انہیں کتابوں میں اس پر پابندی کی بھی روایات موجود ہیں۔
شراب پر پابندی اور استعمال کی آزادی ایک لمبی بحث ہے جو زمانۂ ثلاثہ میں ہمیشہ جاری رہی ہے۔

امریکہ جیسے آزاد ملک میں اس پر پابندی لگانے کا تجربہ کیا گیا۔ آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے اس کی پیداوار، فروخت اور نقل و حمل پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔ یہ ترمیم 1800 میں شروع ہونے والی میانہ روی کی اس عالمی تحریک کا نتیجہ تھی جس کی قیادت مذہبی عورتوں کے ہاتھ میں تھی۔ بعد میں اس تحریک کو چرچ کی سرپرستی بھی مل گئی اور اسے عورتوں کا جہاد کہا جانے لگا۔ پورے یورپ، امریکہ اور دنیا کے باقی ممالک میں بھی اس تحریک کے نتیجے میں شراب پینے والوں کو اس کے استعمال میں میانہ روی اختیار کرنے اور ترک کر دینے پر زور دیا جاتا رہا۔

دسمبر 1919 میں منظور ہونے والی اس ترمیم کے ملک کے عوام پر کیا اثرات ہوئے؟ یہ ایک انوکھی کہانی ہے۔

اس ترمیم پر مکمل طور پر عمل درآمد کروانا مشکل ہو گیا۔ اس کے بعد شراب کی سمگلنگ بڑھ گئی۔ غیر قانونی مے خانے، شراب کی دکانیں اور بنانے والے غیر معیاری کارخانے بھی پورے ملک میں پھیل گئے۔ انڈسٹری میں استعمال ہونے والی الکوحل جو مختلف کیمیکل ملا کر انسانی استعمال کے لیے مضر بنا دی جاتی تھی وہ بھی غیر قانونی اڈوں تک پہنچ جاتی اور ملاوٹ کے کام آتی۔ ان جرائم کو تحفظ دینے کے لیے کریمنل گینگز بننا شروع ہو گئیں۔

1929 میں امریکی شہر اٹلانٹا میں انڈر ورلڈ کے بڑے بڑے دادا گیر جمع ہوئے اور ایک دوسرے سے تعاون کرنے کے لیے سنڈیکیٹ وجود میں آیا۔ نیویارک میں اطالوی سمگلرز اور دیگر غنڈوں کی مربوط سرگرمیوں کی وجہ سے امریکی مافیا کرائم سنڈیکیٹ کو مضبوطی ملی۔ اس کے بعد سمگلنگ، منشیات کی خرید و فروخت، جوا، مہاجنی، جسم فروشی، اغوا برائے تاوان اور قتل جیسے گھناؤنے جرائم میں بہت اضافہ ہو گیا۔ یہ غنڈے اتنے طاقتور ہو گئے کہ صرف 33 سال کی عمر میں بدنام زمانہ ’آل کاپونے‘ کو جب گرفتار کیا گیا تو صرف سات سالہ دادا گیری سے کمائی گئی دولت سو ملین ڈالرز سے بھی زیادہ تھی۔ اس دور کی مشہور فلم
Scarface: The Shame of a Nation
اسی کے عرفی نام پر بنی تھی۔

سمگلنگ عام ہونے کی وجہ سے دیگر اشیا کی غیر قانونی تجارت بھی بڑھ گئی۔ ٹیکس کولیکشن کم ہو گئی اور جرائم کے کنٹرول پر اٹھنے والے اخراجات میں اضافہ ہو گیا۔ ان سارے مسائل کی وجہ سے پولیس اور عدالتی نظام پر اتنا بوجھ پڑا کہ وہ تقریباً مفلوج ہو گئے۔

زیادہ گاڑھی شراب کی سمگلنگ زیادہ نفع دیتی تھی اس لیے اس کا استعمال بڑھ گیا۔ بیئر اور وائن کی ڈیمانڈ کم ہو گئی جب کہ وہسکی، رم اور واڈکا کی فروخت بڑھ گئی۔ شرابی افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اس کے ساتھ ہی دیگر منشیات کا استعمال بھی بڑھ گیا۔ یاد رہے کہ شراب کے علاوہ دیگر تمام منشیات کی کیلورک ویلیو تقریباً صفر ہوتی ہے اور زیادہ تر انتہائی خطرناک بھی ہوتی ہیں۔

1928 کے الیکشن میں یہ بحث چل پڑی کہ ملک کے برے معاشی اور سیکورٹی حالات کی وجہ یہ ترمیم ہے لیکن جیتنے والے صدر نے اسے ’نیک کام‘ قرار دے کر جاری رکھا۔ ملکی معیشت مزید خراب ہو گئی۔ ان حالات کو ’گریٹ ڈپریشن‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اگلے الیکشن کے بعد 1933 میں صدر روزویلٹ نے اقتدار سنبھالتے ہی اکیسویں ترمیم کی توثیق کے ساتھ وفاقی سطح پر شراب کی ممانعت کو منسوخ کر دیا۔

یہ تو انسانی خوراک اور ملکی معیشت پر شراب کے اثرات کی بات تھی اگر دیکھا جائے تو انسانی معاشرے کی اخلاقیات پر شراب کے بہت اثرات ہیں۔ گرچہ اس پر بھی صدیوں سے بحث جاری ہے۔ دونوں طرف مضبوط دلائل موجود ہیں لیکن ایک بات دیکھی گئی ہے کہ موجودہ دنیا کے جن ممالک میں شراب کی ممانعت نہیں وہاں جھوٹ اور منافقت کم ہے۔ جہاں جہاں اس کی کھلے عام فراہمی پر پابندی ہے وہاں دیگر منشیات کا استعمال خطرناک حد تک زیادہ ہے اور انہی ممالک میں جرائم کے ساتھ ساتھ جھوٹ، مکاری، دھوکا دہی، دغابازی اور منافقت بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔

جب اس دنیا سے برائی ختم نہیں کی جا سکتی، جب ہم اپنے ملک سے شراب اور دیگر منشیات کو ختم نہیں کر سکتے تو کیوں نہ ہم بھی ایک مرتبہ کچھ اور سوچ لیں۔ اب تو دنیا ایسی پابندیوں کو بھول کر بہت آگے بڑھ چکی ہے۔

ماڈرن دنیا کی تقریباً تمام یونیورسٹیز طالب علموں کو منشیات کے استعمال، نقصانات اور مقدار پر مکمل رازداری کی گارنٹی دیتے ہوئے انہیں گائیڈ کرتی ہے۔ ان کو نقصانات سے بچانے کے لیے ہدایات جاری کرتی ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ یونین مختلف تقریبات کے دوران یہ سہولت بھی دیتی ہے کہ وہ جان سکیں جو بھی ڈرگ یا شراب لینے لگے ہیں اس میں ملاوٹ تو نہیں؟ اس میں نشہ کی مقدار اتنی ہی ہے جتنا انہیں بتایا گیا تھا کیونکہ ڈرگز لینے والوں کو زیادہ تر نقصان ملاوٹ اور مقدار کی کمی بیشی سے ہوتے ہیں۔

 

سید زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • وہ چاہتا ہے تو مشکل میں ڈال دیتا ہے
  • ساحر لدھیانوی ۔ ایک نیا مطالعہ
  • بھلے غموں سے نڈھال بھی تھا
  • ڈرپوک
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شیخوپورہ: کون جیت سکتا ہے اور کون ہارے گا؟
پچھلی پوسٹ
اعصاب شکن!

متعلقہ پوسٹس

ظالم کو دوں دعائیں میں

اکتوبر 12, 2025

ملاح ڈر نہ جائیں روانی کو دیکھ کر

فروری 2, 2020

خیال و خواب کے دفتر جگہ نہیں بنتی

جنوری 29, 2020

شامِ تنہا کس طرح سحر ہوتی ہے!

مارچ 5, 2023

مقدس ناتا

دسمبر 29, 2019

سرد ہوا سی کیوں ہے

اکتوبر 9, 2025

لوگ تَو شہر کی سڑکوں پہ سُلائے گئے ہیں

فروری 1, 2020

ہر یاد کے پہلو میں کوئی زخم چھپا ہے

اکتوبر 12, 2025

ایکٹریس کی آنکھ

جنوری 21, 2020

یوں بھی کچھ وقت گزارا

جون 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سکونِ لمحہ

جنوری 8, 2025

یہ جو ہو جانے کے احساس...

نومبر 11, 2025

رسومِ جوتا

مئی 25, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں