105
رات بھر جاگنا قبول کیا
عشق میں فاصلہ قبول کیا
مستقل آپ کی خوشی مانگی
اور ہم نے خدا قبول کیا
اس نے جس سمت بھی اٹھائے ہاتھ
ہم نے وہ راستہ قبول کیا
تجھ سے رشتہ نہیں بنایا کوئی
تجھ کو بے ساختہ قبول کیا
حفظ ہوتی گئی تری ہر بات
تیرا ہر ذائقہ قبول کیا
تجدید قیصر
