541
پھر کسی حادثے کا در کھولے
پہلے پرواز کو وہ پر کھولے
جیسے جنگل میں رات اتری ہو
یوں اداسی ملی ہے سر کھولے
پہلے تقدیر سے نمٹ آئے
پھر وہ اپنے سبھی ہنر کھولے
منزلوں نے وقار بخشا ہے
راستے چل پڑے سفر کھولے
جو سمجھتا ہے زندگی کے رموز
موت کا در وہ بے خطر کھولے
ہے کنولؔ خوف رائیگانی کا
کیسے اس زندگی کا ڈر کھولے
آسناتھ کنول
