105
واسطہ پڑ گیا اذیت سے
یعنی چاہا کسی کو شدت سے
پل رہے ہیں جو آستینوں میں
سانپ واقف ہیں میری وحشت سے
رو پڑی پٹڑی جب سوال کیا
کیوں ہے شرمندہ ریل ثروت سے
اب ضروری ہے منہ کے بل گرنا
ہاتھ چھوڑا گیا ہے عجلت سے
اس میں تیرہ شبی مقید ہے
پھوٹ سکتی ہے روشنی خط سے
ہم نے بیزار ہو کے مرنا ہے
ہجر میں سانس کی سہولت سے
گھونسلوں میں مکیں ہے تنہائی
اور اکتائے پیڑ ہجرت سے
پتلیوں پر سفر تمام کیا
آنکھ نے خواب کی مسافت سے
در بدر عمر بھر بھٹکتے ہیں
ہم نکل کر بدن کی جنت سے
ان چراغوں کی زندگی کم ہے
لگ رہا ہے ہوا کی نیت سے
ان کی دستار پر نظر ہو گی
ہاتھ چومیں گے جو عقیدت سے
پیار شاعر سے ہو گیا ہے اسے
اب الجھتی ہے اپنی قسمت سے
میں محبت مزاج تھا ارشاد
لوگ ملتے رہے کدورت سے
ارشاد نیازی
