424
رات پھر تیری آغوش میں روشنی کا سفر
کر رہا ہے ستارہ مرا زندگی کا سفر
دشت کے دشت پیتا ہے یہ پھر بھی پیاسا ہے یہ
ختم کب ہو گا اِس بحر کی تشنگی کا سفر
دُھول میں سب ملا کر گئے سب لٹا کرگئے
لوگ آئے تھے کرنے یہاں بندگی کا سفر
لُٹ گئی میری حیران آنکھوں کی دنیا تو پھر
اشک چُپ چاپ کرتے رہے خامشی کا سفر
اُس کے ہمراہ چلتے ہوئے خوف سا دل میں تھا
روشنی کے جَلُو میں کیا تیرگی کا سفر
خواب آنکھوں میں رُلتے ہیں شاذ اس طرح جس طرح
اجنبی راستوں پہ کسی اجنبی کا سفر
شجاع شاذ
