623
چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی
انتہا تھی یہ دل ربائی کی
مائلِ غمزہ ہے وہ چشمِ سیاہ
اب نہیں خیر پارسائی کی
دام سے اُس کے چھوٹنا تو کہاں
یاں ہوس بھی نہیں رہائی کی
ہوکے نادم وہ بیٹھے ہیں خاموش
صلح میں شان ہے لڑائی کی
اس تغافل شعار سے حسرت
ہم میں طاقت نہیں جدائی کی
حسرت موہانی
