103
وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا
یہی سلیقہ اسے سب میں معتبر کرتا
نہ جانے کتنی غلط فہمیاں جنم لیتیں
میں اصل بات سے پہلو تہی اگر کرتا
میں سوچتا ہوں کہاں بات اس قدر بڑھتی
اگر میں تیرے رویے سے در گزر کرتا
مرا عدو تو تھا علم الکلام کا ماہر
مرے خلاف زمانے کو بول کر کرتا
اکیلے جنگ لڑی جیت لی تو سب نے کہا
پہنچتے ہم بھی اگر تو ہمیں خبر کرتا
مری بھی چھاؤں نہ ہوتی اگر تمہاری طرح
میں انحصار بزرگوں کے سائے پر کرتا
سفر میں ہوتی ہے پہچان کون کیسا ہے
یہ آرزو تھی مرے ساتھ تو سفر کرتا
گئے دنوں میں یہ معمول تھا مرا تیمورؔ
زیادہ وقت میں اک خواب میں بسر کرتا
تیمور حسن تیمور
