103
نہیں اڑاؤں گا خاک رویا نہیں کروں گا
کروں گا میں عشق پر تماشا نہیں کروں گا
مری محبت بھی خاص ہے کیونکہ خاص ہوں میں
سو عام لوگوں میں ذکر اس کا نہیں کروں گا
اسے بتاؤ فرار کا نام تو نہیں عشق
جو کہہ رہا ہے میں کار دنیا نہیں کروں گا
کبھی نہ سوچا تھا گفتگو بھی کروں گا گھنٹوں
اور اپنی باتوں میں ذکر تیرا نہیں کروں گا
ارادتاً جو کیا ہے اب تک غلط کیا ہے
سو اب کوئی کام بالارادہ نہیں کروں گا
تجھے میں اپنا نہیں سمجھتا اسی لیے تو
زمانے تجھ سے میں کوئی شکوہ نہیں کروں گا
مری توجہ فقط مرے کام پر رہے گی
میں خود کو ثابت کروں گا دعویٰ نہیں کروں گا
اگر میں ہارا تو مان لوں گا شکست اپنی
تری طرح سے کوئی بہانہ نہیں کروں گا
اگر کسی مصلحت میں پیچھے ہٹا ہوں تیمورؔ
تو مت سمجھنا کہ اب میں حملہ نہیں کروں گا
تیمور حسن تیمور
