108
ہجر بخشا کبھی وصال دیا
عشق نے جو دیا کمال دیا
ایک خط جو سنبھالنا تھا مجھے
جانے میں نے کہاں سنبھال دیا
شکر اس کا کروں ادا کیسے
جس نے حیرت دی اور سوال دیا
میری قسمت کا فیصلہ اس نے
معرض التوا میں ڈال دیا
خود کیا فیصلہ خلاف اپنے
مشکلوں سے اسے نکال دیا
سب کو دل کی بتاتا تھا تیمورؔ
میں نے پوچھا تو ہنس کے ٹال دیا
تیمور حسن تیمور
