131
وہ دیکھتا ہے مجھ کو مگر بے حیا نہیں
میں دیکھنے لگوں تو مجھے دیکھتا نہیں
تقدیر میری ہو گئی اس پھول کی طرح
مرجھا گیا تو پھر کبھی پھولا پھلا نہیں
اٹھ کے تمہارے در سے کہاں جاؤں گی بھلا
اس شہر میں کوئی بھی مجھے جانتا نہیں
بہتر تو اب یہی ہے تجھے میں بھی چھوڑ دوں
اس راستے کے آگے کوئی راستا نہیں
تنہائیوں کے بیچ رہی میں تمام رات
پھر بھی ترا خیال مجھے چھو سکا نہیں
ہمانشی بابرا
