111
مرا باطن مجھے ہر پل نئی دنیا دکھاتا ہے
کسی نادیدہ منزل کا کوئی رستا دکھاتا ہے
خدا بھی زندگی دیتا ہے بس اک رات کی ہم کو
اسی اک رات میں لیکن خدا کیا کیا دکھاتا ہے
ذرا تم دیس کے اس رہنما کے کام تو دیکھو
شجر کو کاٹتا ہے خواب سائے کا دکھاتا ہے
بہت سی خوبیاں ہیں آئنے میں مانتا ہوں میں
مگر اک عیب ہے کمبخت میں چہرا دکھاتا ہے
اس آشوب زمانہ کے لئے میں کیا کہوں تیمورؔ
کہ ہر بکھرا ہوا خود کو یہاں سمٹا دکھاتا ہے
تیمور حسن تیمور
