329
ہے نہیں کوئی ناخدا دل کا
دل ہی ہے ایک آسرا دل کا
چار سو بے خودی میں پھرتا ہے
کچھ ٹھکانا نہیں رہا دل کا
رسم دنیا کو کیوں یہ مانے گا
ہے الگ جگ سے قاعدہ دل کا
شیخ و پنڈت کو کوئی سمجھائے
رب سے رہتا ہے رابطہ دل کا
راہ انسانیت ہی اول ہے
ہے یقیناً یہ فلسفہ دل کا
دو جہاں بھی یہاں سما جائیں
کتنا پھیلا ہے دائرہ دل کا
لب تلک آ کے بات ہی بدلی
کیا کرے لفظ ترجمہ دل کا
عقل کب آئے گی تمہیں موناؔ
مانتے کیوں ہو تم کہا دل کا
ایلزبتھ کورین مونا
