426
بنائی ہے تری تصویر میں نے ڈرتے ہوئے
لرز رہا تھا مرا ہاتھ رنگ بھرتے ہوئے
میں انہماک میں یہ کس مقام تک پہنچا
تجھے ہی بھول گیا تجھ کو یاد کرتے ہوئے
نظام کن کے سبب انتشار ہے مربوط
یہ کائنات سمٹتی بھی ہے بکھرتے ہوئے
کہیں کہیں تو زمیں آسماں سے اونچی ہے
یہ راز مجھ پہ کھلا سیڑھیاں اترتے ہوئے
ہمیں یہ وقت ڈراتا کچھ اس طرح بھی ہے
ٹھہر نہ جائے کہیں حادثہ گزرتے ہوئے
کچھ اعتبار نہیں اگلی نسل پر ان کو
وصیتیں نہیں کرتے یہ لوگ مرتے ہوئے
ہر ایک ضرب تو ہوتی نہیں عیاں عاصمؔ
ہزار نقش ہوئے مندمل ابھرتے ہوئے
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
