125
پہلے پہلے بلایا گیا ڈاکیہ
پھر کئی بار آیا گیا ڈاکیہ
کچے رستوں سے نکلا تو خط گر پڑے
ایک پتھر سے ٹکرا گیا ڈاکیہ
لوگ دیوار و در سے لپٹنے لگے
ایک دن گاؤں میں آ گیا ڈاکیہ
کچے گھر کی پہنچ سے بہت دور تھا
باد و باراں سے گھبرا گیا ڈاکیہ
دل پہ دستک سنائی نہ دی پھر کبھی
آنکھ سے دور ہوتا گیا ڈاکیہ
ہاتھ ملتی رہی خواہش خواندگی
جو بتایا وہ لکھتا گیا ڈاکیہ
آخری خط لیے آخری موڑ پر
آخری بار دیکھا گیا ڈاکیہ
اکرام عارفی
