109
غنچہ لفظوں کا
بکھرے لفظوں کو جمع کرنے نکلی
اردگرد مرے اوراق زندگی کے
بڑھے طوفان نے بکھیرے وہ اوراق
سنبھل سنبھل کر جمع کر نا ہیں
مرا اب جنون سبھی چلاتے رہتے
یہ کیسی دیوانگی تیری
کیسے کہوں زندگی تھی ان لفظوں میں
کیسے سمجھاؤں لفظوں کا متن
ؔمل جاے اوراق سمیٹوںان لفظوں کو
دیکھو پڑھوں وہی لفظوں کا مجموعہ
اک اک حروف کتنا قیمتی تم کیا جانو
مرا ریاض وہ صبر مرے لفظوں کا
خدیجہ مل جاے گا غنچہ لفظوں کا
خدیجہ آغا

1 تبصرہ
بہت عمدہ و بیمثال تخلیق