700
حساب ترک تعلق تمام میں نے کیا
شروع اس نے کیا اختتام میں نے کیا
وہ چاہتا تھا کہ دیکھے مجھے بکھرتے ہوئے
سو اس کا جشن بصد اہتمام میں نے کیا
بہت دنوں میں مرے گھر کی خامشی ٹوٹی
خود اپنے آپ سے اک دن کلام میں نے کیا
اس ایک ہجر نے ملوا دیا وصال سے بھی
کہ تو گیا تو محبت کو عام میں نے کیا
مزاج غم نے بہر طور مشغلے ڈھونڈے
کہ دل دکھا تو کوئی کام وام میں نے کیا
وہ آفتاب جو دل میں دہک رہا تھا سعود
اسے سپرد شفق آج شام میں نے کیا
سعود عثمانی
