499
بازیافت
ہم جن خوابوں کے پیچھے بھاگتے ہیں
وہ آنکھ کھُلتے ہی ٹوٹ جاتے ہیں
ہم جن رستوں پر چلنا چاہتے ہیں
وہ رستے نہ جانے کیوں اجنبی بن جاتے ہیں
ہماری آنکھیں انتظار کرنا بھول چکی ہیں
ہمارے آنسو خشک ہوچکے ہیں
کسی کی یاد اب ہ میں ستاتی نہیں
اب نہ کوئی درد ہے
نہ کوئی خلش
ہم نے کاٹ پھینکے وہ اعضاء جو ہ میں لہو لہو کرچکے
ہاں ۔۔۔
اپنے آپ سے بچھڑنے کا کچھ ملال تو ہے
اپنے آپ پر ہنسنے کاتھوڑاغم بھی ہے
جو جھوٹ ہم نے اپنی ذات سے بولے
ان کی چبھن بھی ہے
مگر اس کے سوا ہم کیاکرتے
زندگی کوئی کوئی معانی تو دینا تھا
بِنا کسی سرشاری کے
کیونکہ ہم جانتے ہیں
ہمار ی محبت سڑ چکی ہے
انجلا ء ہمیش

1 تبصرہ
Hamari aankhian intazar kerna bhool gai Hain