819
سانس لیتا وہ سمندر موت کا تھا
ڈوبتے سورج میں منظر موت کا تھا
بین کرتی تھیں مری تنہائیاں بھی
میں جہاں رہتا تھا وہ گھر موت کا تھا
کائناتیں مجھ میں گُم ہونے لگی تھیں
ایک سناٹا سا اندر موت کا تھا
پی لیا تھا زہر رس اُس سیپ نے بھی
پیٹ میں اب اس کے گوہر موت کا تھا
زندگی جس پر سکوں سے سو رہی تھی
مجھ کو حیرت ہے وہ بستر موت کا تھا
شاذؔ کیا بنتا کسی کی زندگی میں
جو ملا مجھ کو مقدر موت کا تھا
شجاع شاذ
