101
ڈرے ہوئے ہیں سبھی لوگ ابر چھانے سے
وہ آئی بام پہ کیا دھوپ کے بہانے سے
وہ قصہ گو تو بہت جلدباز آدمی تھا
بہت سی لکڑیاں ہم رہ گئے جلانے سے
نظر تو ڈال روانی کی استقامت پر
یہ آبشار ہے کہسار کے گھرانے سے
مسافران محبت مجھے معاف کریں
میں باز آیا انہیں راستہ دکھانے سے
اگر میں آخری بازی نہ کھیلتا اظہرؔ
تو خالی ہاتھ نہ آتا قمار خانے سے
اظہر فراغ
