103
جاتے ہوئے نہیں رہا پھر بھی ہمارے دھیان میں
دیکھی بھی ہم نے مچھلیاں شیشے کے مرتبان میں
پہلے بھی اپنی جھولیاں جھاڑ کر اٹھ گئے تھے ہم
ایسی ہی ایک رات تھی ایسی ہی داستان میں
ساتھ ضعیف باپ کے لگ گئیں کام کاج پر
گہنے چھپا کے لڑکیاں دادی کے پان دان میں
گھنٹی بجا کے بھاگتے بچوں کو تھوڑی علم ہے
رہتا نہیں ہے کوئی بھی آدمی اس مکان میں
یعنی مجال کچھ نہیں ذروں کے اجتماع کی
یعنی سبھی مہہ و نجوم ایک ہی خاندان میں
اتنا بھی مختلف نہیں میرا تمہارا تجربہ
جیسے کہ تم مقیم ہو اور کسی جہان میں
اظہر فراغ
