390
مصر فرعون کی تحویل میں آیا ہوا ہے
خون پانی کی جگہ نیل میں آیا ہوا ہے
وقت بے وقت جھلکتا ہے مری صورت سے
کون چہرہ مری تشکیل میں آیا ہوا ہے
پیش بینی ہے یہ الہام کے آئینے کی
عکس قرآن کا انجیل میں آیا ہوا ہے
کوئی لمحہ مجھے تبدیل کئے جاتا ہے
کیا تغیر مری تکمیل میں آیا ہوا ہے
سرگزشت دل تفریح طلب میں جاناں
ذکر تیرا کسی تفصیل میں آیا ہوا ہے
میری آنکھوں میں اگے خوف زدہ زرد کنول
شارک کا عکس مری جھیل میں آیا ہوا ہے
اس کے محصول پہ دشمن کی نظر ہے عاصمؔ
جو علاقہ مری تحصیل میں آیا ہوا ہے
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
