103
باغ سے متصل ہے ایک گلی
جہاں کھلتی ہے میرے دل کی کلی
محبس دل میں تم نہیں آئے
ایک دن تو یہاں ہوا بھی چلی
تیری فرقت کے داغ دل میں رکھے
تیرے کوچے کی خاک منہ پہ ملی
ایک تو ہے کہ ہے نظر آتا
ایک میں ہوں کہ ہوں خفی نہ جلی
زر خیرات پھینک دیتا ہوں
کون چکھے سخاوتوں کی ڈلی
سوکھنے والے پھر ہرے نہ ہوئے
راہ کی گھاس پھر نہ پھولی پھلی
پوچھتے ہو کہ کون ہے اکرامؔ
کبھی دیکھا ہے کیا جدید ولیؔ
اکرام عارفی
