327
پلٹ کر اشک سوئے چشم تر آتا نہیں ہے
یہ وہ بھٹکا مسافر ہے جو گھر آتا نہیں ہے
قفس اب آشیاں ہے خاک پر لکھی ہے روزی
کبھی دل میں خیال بال و پر آتا نہیں ہے
پہاڑوں کی سیاہی سے فزوں دل کی سیاہی
وہ حسن اب اپنی آنکھوں کو نظر آتا نہیں ہے
شجر برسوں سے نقش رائیگاں بن کر کھڑے ہیں
کوئی موسم ہو شاخوں میں ثمر آتا نہیں ہے
مرے اس اولیں اشک محبت پر نظر کر
یہ موتی سیپ میں پھر عمر بھر آتا نہیں ہے
کوئی قاتل رواں ہے میری شریانوں میں خورشیدؔ
جو مجھ کو قتل کرتا ہے نظر آتا نہیں ہے
خورشید رضوی
