337
پہلو میں ترے رات گزاروں میں کسی دن
آئے تو کبھی تجھ کو پکاروں میں کسی دن
تو میری غزل ہے اے میری جان تمنا
تو مجھ کو ملے جان یہ واروں میں کسی دن
خواہش ہے کبھی سامنے بیٹھے تجھے دیکھوں
حسرت ہے تجھے دل میں اتاروں میں کسی دن
آ کر جو کسی روز سنورنے کا کہے تو
پھر تیرے لیے خود کو سنوارں میں کسی دن
تو آئے کسی شام اگر میرے نگر میں
خود آ کے تیری نظر اتاروں میں کسی دن
اس ہار میں پھر جیت کی شامل ہو خوشی بھی
جو تجھ کو جیتا کے کبھی ہاروں میں کسی دن
شیخ محمد طلحہ
