104
میں تو ایک کاغذی پھول تھا سر شام خوشبو سے پھر گیا
میں کہاں ہوں مجھ کو خبر نہیں مجھے کون چھو کے گزر گیا
وہ اداس لڑکی بہار لائی پہاڑیوں سے زمیں پر
مرے دل میں ورد کا چاند بھی یونہی زینہ زینہ اتر گیا
یہ گلاب بھی مرا عکس ہے یہ ستارہ بھی مرا نقش ہے
میں کبھی زمین میں دفن ہوں کبھی آسمان ہے گزر گیا
میں اداس چاند کا باغ ہوں میں گئے دنوں کا سراغ ہوں
مرے شاخ شاخ جھلس گئی مرا پھول پھول بکھر گیا
وہ سفید پھولوں سی اک دعا مرے ساتھ ساتھ رہی سدا
یہ اسی کا فیض ہے بارہا میں بکھر بکھر کے سنور گیا
مرے آنسووں کی کتاب بھی تیرے خوشبوؤں سے مہک گیا
مرا شعر ہے ترا آئینہ جہاں شام آئی سنور گیا
بشیر بدر
