103
سر پہ سایہ سا دست دعا یاد ہے
اپنے آنگن میں اک پیڑ تھا یاد ہے
جس میں اپنی پرندوں سے تشبیہ تھی
تم کو اسکول کی وہ دعا یاد ہے
ایسا لگتا ہے ہر امتحاں کے لیے
زندگی کو ہمارا پتہ یا دہے
میکدے میں اذان سن کے رویا بہت
اس شرابی کو دل سے خدا یاد ہے
میں پرانی حویلی کا پردہ مجھے
کچھ کہا یاد ہے کچھ سنا یاد ہے
بشیر بدر
