394
یہ نہیں راستہ نہیں معلوم
واپسی ہو گی کیا نہیں معلوم
زندگی مجموعہ مصائب کا
موت ہے چیز کیا نہیں معلوم
ایک قاتل تو خاندان سے تھا
دوسرا کون تھا نہیں معلوم
زندگی اور موت کے مابین
کتنا ہے فاصلہ نہیں معلوم
بے وفائی ہے اک گناہِ عظیم
شاید تم کو سزا نہیں معلوم
خوب ہے ابتدا محبت کی
اور ہمیں انتہا نہیں معلوم
یاد کچھ بھی عزائی رہتا نہیں
ذہن کو کیا ہوا نہیں معلوم
اعجاز عزائی
