103
بڑے تاجروں کی ستائی ہوئی
یہ دنیا دلہن ہے جلائی ہوئی
بھری دوپہر کا کھلا پھول ہے
پسینے میں لڑکی نہائی ہوئی
کرن پھول کی پتیوں میں دبی
ہنسی اس کے ہونٹوں پہ آئی ہوئی
وہ چہرہ کتابی رہا سامنے
بڑی خوب صورت پڑھائی ہوئی
خوشی ہم غریبوں کی کیا ہے میاں
مزاروں پہ چادر چڑھائی ہوئی
اداسی بچھی ہے بڑی دور تک
بہاروں کی بیٹی پرائی ہوئی
بشیر بدر
