104
لگانا دل کسی نا مہرباں سے
زمیں کی دوستی ہے آسماں سے
نظر آتے تھے تم تو بے زباں سے
یہ باتیں آگئیں تم کو کہاں سے
نظر آتے ہیں وہ کچھ مہرباں سے
گرے گی کوئی بجلی آسماں سے
یہ ننگ عجز ہے اک بار رکھ کر
اٹھانا سر کسی کے آستاں سے
وصال جاودانی چاہتا ہوں
مگر وہ زندگی لاؤں کہاں سے
سنا دوں داستان غم سنا دوں
اگر تو سن سکے میری زباں سے
انہیں باتوں سے جو بیتاب کر دے
الٰہی وہ زباں لاؤں کہاں سے
کریں کیا ان سے اظہار محبت
وہ سن لیں گے ہمارے رازداں سے
غلام مصطفٰی تبسم
