641
میں کیا ہوں اس خیال سے لگتا ہے ڈر مجھے
کیوں دیکھتے ہیں غور سے اہلِ نظر مجھے
لے جاو ساتھ ہوش کو اے اہلِ ہوش جاو
ہے خوب اپنی بے خبری کی خبر مجھے
بدلی ہوئی نگاہ کو پہچانتا ہوں میں
دینے لگے پھر آپ فریبِ نظر مجھے
گم ہو گیا ہوں بے خودئ زوقِ عشق میں
اے عقل جا کے لا تو ذرا ڈھونڈ کر مجھے
میں اپنی زندگی کو بُرا کیوں کہوں حفیظ
رہنا ہے اس کے ساتھ میاں عُمر بھر مجھے
حفیظ جالندھری
