340
کہیں زمیں تو کہیں آسماں پسند کیا
سفر پسند تھے رکنا کہاں پسند کیا
چراغ اور کسی قافلے کے ساتھ گئے
ہوا نے اور کوئی کارواں پسند کیا
وہ کیا پرند تھے ہجرت میں کٹ گئی جن کی
نہ سبز شاخ نہ آبِ رواں پسند کیا
بچھڑ کے تجھ سے کسی سے نہ راہ و رسم رہی
کسی سے دل نے بھی ملنا کہاں پسند کیا
فقیر لوگ تھے نام و نمود سے بیزار
نہ عزّو جاہ نہ نام و نشاں پسند کیا
دیے کی لو سے لرزتے تھے تیرہ زاد سبھی
بجھے چراغ کا سب نے دھواں پسند کیا
جو کج سخن تھے وہ خائف تھے میرے لہجے سے
سخن وروں نے تو حسن ِ زباں پسند کیا
حیات و موت کے مابین کشمکش میں تھا
اور اس نے مجھ کو اسی درمیاں پسند کیا
مثال ِ موجہ ء بادِ رواں تھے ہم ارشاد
سو ہم نے مسلکِ آوارگاں پسند کیا
ارشاد نیازی
