101
بدن کو خاک کیا اور لہو کو آب کیا
پھر اس کے بعد مرتب نیا نصاب کیا
تھکن سمیٹ کے صدیوں کی جب گرے خود پر
تجھے خود اپنے ہی اندر سے بازیاب کیا
پھر اس کے بعد ترے عشق کو لگایا گلے
ہر ایک سانس کو اپنے لیے عذاب کیا
اگر وجود میں آ کر اسے نہ ملنا تھا
ہمیں کیوں بھیج کے اس دہر میں خراب کیا
اسی نے چاند کے پہلو میں اک چراغ رکھا
اسی نے دشت کے ذروں کو آفتاب کیا
فہیم شناس کاظمی
