107
برگ صدا کو لب سے اڑے دیر ہو گئی
ہم کو بھی اب تو خاک ہوئے دیر ہو گئی
اب ساحلوں پہ کس کو صدا دے رہے ہو تم
لمحوں کے بادبان کھلے دیر ہو گئی
اے حسن خود پرست ذرا سوچ تو سہی
مہر و وفا سے تجھ کو ملے دیر ہو گئی
تیرا وصال خیر اب اک واقعہ ہوا
اب اپنے آپ سے بھی ملے دیر ہو گئی
صدیوں کی ریت ڈھانپ کر آسودہ ہو گئے
سر کو ہمارے تن سے کٹے دیر ہو گئی
صرصر ہو یا صبا ہو کہ ہوں تیز آندھیاں
ہم کو فصیل شب پہ جلے دیر ہو گئی
تیری گلی کے موڑ پہ پہنچے تھے جلد ہم
پر تیرے گھر کو آتے ہوئے دیر ہو گئی
اک دور تھا شناسؔ صدا تھی مری بلند
اور اب تو میرے ہونٹ سلے دیر ہو گئی
فہیم شناس کاظمی
