373
میں جاگوں ساری رین سجن تم سو جاؤ
گیتوں میں چھپا لوں بین سجن تم سو جاؤ
شام ڈھلے سے بھور بھئے تک جاگ کے جب کٹتی ہے گھڑیاں
مدھر ملن کی اوس میں بس کر کھلتی ہیں جب جیون کی کلیاں
آج نہیں وہ رین سجن تم سو جاؤ
پھیکی پڑ گئی چاند کی جیوتی دھندلے پڑ گئے دیپ گگن کے
سو گئیں سندر سیج کی کلیاں سو گئے کھلتے بھاگ دلہن کے
کھل کر رولیں نین سجن تم سو جاؤ
جاگ کے تن کی اگنی سو گئی بڑھ کے تھم گئی من کی ہلچل
اپنا گھونگھٹ آپ الٹ کر کھول دی میں پاؤں کی پائل
اب ہے چین ہی چین سجن تم سو جاؤ
ساحرؔ لدھیانوی
