101
مرے خیال سے وہ شخص یوں پھسل رہا تھا
لگا کہ سات جہانوں کا دل نکل رہا تھا
ترے خیال نے آ کر اسے سہارا دیا
چراغ رات کی تاریکیوں میں ڈھل رہا تھا
جسے یہ ہاتھ تھمایا تھا کچھ مدد کے لیے
نظر پڑی تو وہ بازو مرا نگل رہا تھا
مجھے لگا کہ وہ لوٹ آیا ہے مری جانب
مگر وہ آستیں میں کینچلی بدل رہا تھا
نبیل حاجب
