318
دل میں رہتا ہے کوئی دل ہی کی خاطر خاموش
جیسے تصویر میں بیٹھا ہو مصور خاموش
دل کی خاموشی سے گھبرا کے اٹھاتا ہوں نظر
ایک آواز سی آتی ہے مسافر خاموش
اس تعارف کا نہ آغاز نہ انجام کوئی
کر دیا ایک خموشی نے مجھے پھر خاموش
کچھ نہ سن کر بھی تو کہنا ہے کہ ہاں سنتے ہیں
کچھ نہ کہہ کر بھی تو ہونا ہے بالآخر خاموش
ڈوب سکتی ہے یہ کشتی تری سرگوشی سے
اے مرے خواب مرے حامی و ناصر خاموش
چیونٹیاں رینگ رہی ہیں کہیں اندر عادلؔ
ہم ہیں دیوار کے مانند بظاہر خاموش
ذوالفقار عادل
