407
بڑی مشکل کہانی تھی مگر انجام سادہ ہے
کہ اب اس شخص کا ہم سے بچھڑنے کا ارادہ ہے
اور اس کے بعد اک ایسے ہی لمحے تک ہے خاموشی
ہمیں در پیش پھر سے لمحۂ تجدید وعدہ ہے
سنو رستے میں اک جلتا ہوا صحرا بھی آئے گا
کہو کب تک ہمارے ساتھ چلنے کا ارادہ ہے
ہمیں آسانیوں سے پیار تھا اور لوگ کہتے تھے
اگر منزل سے ہٹ جائیں تو ہر رستہ کشادہ ہے
ستارہ در ستارہ ٹوٹتا ہے آسماں تو بھی
ترے قصے میں بھی میری کہانی کا اعادہ ہے
میں ہوں نا معتبر منزل کی خاطر معتبر رہ پر
وجود خواہش جاں پر دعاؤں کا لبادہ ہے
کچھ ایسی شدتوں سے ہم گزر کر آئے ہیں عادلؔ
ہمیں تیری ضرورت بھی ضرورت سے زیادہ ہے
ذوالفقار عادل
