102
بس اک نگاہ کو یوں تیر کرنا چاہتی ھوں
اک اجنبی کو میں تسخیر کرنا چاہتی ھوں
ہر ایک رنج سے خود کو گزارنا ھے مجھے
تمام درد میں تحریر کرنا چاہتی ھوں
میں چاہتی ھوں مرے لفظ دل پہ وار کریں
ھر ایک شعر کو شمشیر کرنا چاہتی ھوں
وہ اس لیے بھی ضروری ھے میں اُسے پا کر
ادھورے خواب کی تعبیر کرنا چاہتی ھوں
اُسے کہو کہ مرے شہر میں قیام کرے
کہ ہمسفر نہیں تقدیر کرنا چاہتی ھوں
میں اُسکے ھاتھ پہ بیعت کروں گی اب تسلیم
اُسے میں اپنے لیے پیر کرنا چاہتی ھوں
تسلیم اکرام
