خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابارازِحیات
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزڈاکٹر نعمان رفیع

رازِحیات

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 30, 2021
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 30, 2021 0 تبصرے 65 مناظر
66

فرض کریں اگر پوری دنیا میں ایک آواز سنائی دے (وہ آواز اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی بھی ہو سکتی ہے)اور سوال کیا جائے کہ زندگی کیا ہے تو پوری دنیا فوراً اس آواز کی طرف متوجہ ہو گی۔ ہرکوئی اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرے گا۔ کوئی افلاطون کے اقوال میں جواب تلاش کرئے گا ،کوئی ارسطو کی لکھی کتابوں کی ورق گردانی کرئیگا تو کوئی سقراط کے کہے الفاظ کی مدد سے اس سوال کا جواب تلاش کرے گا۔
کچھ ایسے بھی ہوں گے جو اپنی رائے کو ہر کسی کی رائے سے زیادہ اہمیت دیں گے اور کچھ مذہب کو سامنے رکھتے ہوئے اس سوال کا جواب تلاش کریں گے۔ غرض یہ کہ ہر کوئی سوچ بچار کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر کوئی مناسب جواب دینے میں کامیاب ہو مگر سوچنے کی کوشش ہر کوئی کرے گا۔

اس دنیا میں تقریبا اٹھارہ ہزار کے قریب مخلوقات پائی جاتی ہیں تو کیا سبھی مخلوقات اس سوال پر غور کریں گی؟ افلاطون وغیرہ تو انسان ہیں تو کیا باقی اٹھارہ ہزار مخلوقات میں سے بھی کسی نے کوئی اصول اپنائے کوئی کتاب لکھی؟ کسی مخلوق نے کسی دوسری مخلوق کو اپنا غلام بنا کر اس سے فائدہ حاصل کیا؟ کسی مخلوق نے اپنے لیے عبادت گاہیں تعمیر کیں؟ہر گز نہیں ۔

آج زمین اور اس کائنات کو وجود میں آئے ہزاروں برس بیت گئے لیکن سوال کا جواب دینے یا جواب کے بارے سوچنے کا کام صرف انسان ہی کرے گا۔ جب کبھی کوئی آواز سنائی دی تو کائنات میں پائی جانے والی تمام مخلوقات اسکی طرف متوجہ ضرور ہوں گی۔ کچھ لمحوں کیلئے سب ڈر بھی جائیں گے مگر چند لمحات کے بعد سب بھول کر اپنے کاموں میں مشغول ہو جائیں گے سوائے انسان کے اس وقت دنیا میں سات ارب سے زائد انسان آباد ہیں۔
مگر ان میں سے صرف چند لاکھ یا چند ہزار ہی اس سوال پر غور و فکر کریں گے۔ باقی تمام افراد دوسری مخلوقات کی طرح چند لمحے اس آواز کی طرف متوجہ ہو کر اپنے کاموں میں مشغول ہو جائیں گے۔ اگر ایک عام انسان چند لمحوں کیلئے اس سوال پر غور کرے تو وہ اپنی پیدائش اور موت کو ہی زیادہ اہمیت دے گا وہ کہے گا میں پیدا ہوا، اب سوتا جاگتا کھاتا پیتا ہوں پھر مر جاؤں گا ۔
کیوں پیدا ہوا اس پر وہ غور نہیں کرے گا۔ اپنی زندگی کی آسائشوں سے لطف اندوز ہو گا لیکن اگر وہ گہرائی سے سوچے گا اور یہ تصور کرے گا کہ کہ میری زندگی کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے تو میرے بعد میرے گھر والے میری جائیداد کپڑے جوتے یا ضرورت کی اشیاء کہاں جائیں گی، جن چیزوں سے اسے زیادہ محبت ہے۔ ان کے بارے سوچ کروہ مایوسی کا شکار ہونا شروع ہو جائے گا۔
دور قدیم اور جدید کے وہ فلاسفر جنہوں نے زندگی کی حقیقت کے بارے میں آگاہی پیدا کی۔ ان نے انسان کو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں دیا ۔یہی وجوہات ہیں کہ اب ہر گزرتے دن دنیا میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ شائد اسی مایوسی کا شکار ایک عالمی شہرت یافتہ گلوکار مائیکل جیکسن بھی تھا اور اسی لیے وہ قانون قدرت سے لڑتا اور الجھتا رہا ایک سو پچاس برس کی زندگی جینے کیلئے وہ اپنی پچاس برس کی زندگی کو بھی تکلیف دہ مراحل سے گزارتا رہا مگر اپنے بعد آنے والوں کے لیے ایک مثال چھوڑ گیا کہ انسان تو مر جاتا ہے مگر اس کا نام اور کام زندہ رہ جاتے ہیں۔
یہ درس اسلام نے سب سے بہتر اور احسن طریقے سے دیا ہے۔ اسلام انسان کو سیکھاتا ہے کہ یہ زندگی محنت کا دوسرانام ہے اور اس کا اصل اجر اس زندگی کے اختتام کے بعد ملے گا۔ اس وقت پوری دنیا کے تمام افراد کسی نہ کسی مذہب کے ماننے والے ہیں اور اگر تمام مذاہب کا مطالعہ کیا جائے تو ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے انسانیت، انسان کیا ہے اس کے بارے قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ” انسان کو ایک بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا گیا ہے” اور انسان وہ واحد مخلوق ہے جسے دوام حاصل ہے۔
یہ کئی زندگیاں رکھتا ہے، ایک پیدا ہونے سے پہلے، پھر پیدا ہونے سے موت تک، پھر اس کے بعد کی دائمی زندگی مگر سب سے زیادہ اہمیت پیدا ہونے کے بعد سے موت تک کی ہے کیونکہ اس میں انسان کو اختیار دیاگیا ہے۔ اپنی زندگی کے فیصلے کرنے میں انسان آزاد ہے اور یہی وہ حصہ ہے جس میں انسان پہلے فیصلہ اور پھر تگ و دو کرتا ہے۔ اس کوشش کے نتیجے میں بھی انسان کو ایک زندگی ملتی ہے جسے اصل زندگی کہا جاتا ہے۔
یہ زندگی انسان کو مرنے کے بعد بھی اس دنیا میں زندہ رکھتی ہے۔ ایک مرتبہ صحابہ اکرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زندگی کے بارے سوال کیا "توآپ نے مٹی ہاتھ میں لے کر اسے پھونک مار کر اڑا دیا اور فرمایا یہ ہے زندگی” ۔ہم اکثر ایک جملہ سنتے ہیں کہ ”اوقات میں رہو” لوگ اسے گالی سمجھتے ہیں لیکن در حقیقت یہ نصیحت ہوتی ہے۔ کیونکہ اوقات وقت کی جمع ہے اور انسان کی عمر کو وقت سے ماپا جاتا ہے اور اس سے مراد اپنی عمر کے مطابق گفتگو کرنا ہوتا ہے۔
زندگی اور عمرہمیشہ مخالف سمت کے مسافر ہیں۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ جب عمر بڑھتی ہے تو زندگی کم ہوتی ہے اور پھر ”ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے”اب یہ انسان پر ہے کہ وہ ہر لمحہ کم ہوتی زندگی کو کیسے امر کرتا ہے ۔کیسے اپنے نام یا کام کو زندہ رکھتا ہے۔ کیونکہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے نام سے توعام لوگ واقف نہیں ہوتے مگر ان کی محنت سے ایجادات اور دریافت سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں اور آگے آنے والے بھی فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔
اگر پوری زمین کا جائزہ لیا جائے تو انسان کے علاوہ اٹھارہ ہزار مخلوقات میں ہر ایک کوئی نہ کوئی کام کرتی ہے حتیٰ کہ ہمیں مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنے والے جراثیم بھی ہر وقت مردہ اجسام کی توڑ پھوڑ میں مصروف ہیں، اگر وہ نہ ہوں تو اب تک پوری زمین مردہ اجسام سے بھری ہو تو اگر قدرت نے نظر نہ آنے والے کیڑوں کو بھی بغیر مقصد کے پیدا نہیں کیا وہ ہر پل انسان کی خدمت میں مصروف ہیں تو کیا انسان جسے اشرف المخلوقات کہا گیا ،جس کی ہدایت کیلئے چار الہامی کتابیں نازل کی گئیں۔
بے شمار انبیاء اکرام بھیجے گئے ۔اسکی سانسیں بے مقصد نہیں ہو سکتیں۔ انسان کا اصل کام جانداروں کی خدمت کرنا ہے مگر دوسرے جانداروں کے بر عکس انسان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ دوسروں کے لیے کام کرتا ہے یا جیسے باقی مخلوقات کی طرح یہ سوچنا ہے کہ مجھے کھانا ہے کھا کر آرام کرنا ہے اور اپنی نسل میں اضافہ کرنا ہے اور جو انسان صرف اسی کو زندگی کہے۔
اس میں اور حیوان میں کوئی فرق نہیں کیونکہ یہ حیوانی جذبات ہیں دنیا میں زندگی کی دو اقسام ہیں۔ ایک اپنی خواہشات کے زیر اثر رہنا اور دوسرا اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق جینا۔انسان جب سوچنے سمجھنے کی عمر کو پہنچتا ہے تو وہ چاہتا ہے اسکے بال کالے رہیں مگر وہ سفید ہو جاتے ہیں ،وہ چاہتا ہے نظر کمزور نہ ہو مگر ہو جاتی ہے تو جب انسان کو اپنے جسم پر اختیار نہیں تو اسے اپنی سوچ بھی اسی خالق کے زیر اثر کر دینی چاہیے جس کے زیر اثر اس کا جسم ہے۔
انسان کی زندگی کا اصل مقصد انسان سمیت تمام مخلوقات کی خدمت ہے ۔چاہے اس کو شش میں وہ خود فنا ہی کیوں نہ ہو جائے۔ فنا میں ہی بقائے ہستی کا راز مضمر ہے کیونکہ بیج اگر فنا نہ ہو تو کبھی درخت نہیں بن سکتا اور اس چھوٹے سے بیج کا فنا ہونا کیا کچھ دیتا ہے یہ سبھی جانتے ہیں اور یہی زندگی ہے۔

بقول شاعر
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دشمنی پر وہی تلا ہوا ہے
  • قریب ہے کہ وہ کہہ دے
  • ﺍﺷﮏِ ﺭﻭﺍﮞ ﮐﯽ ﻧﮩﺮ ﮨﮯ
  • عمیق مشعل کی حفاظت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سلیم فائز
پچھلی پوسٹ
دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا

متعلقہ پوسٹس

بے چارہ دکھ

اکتوبر 12, 2025

حکمرانی صرف اکثریت پر موقوف نہیں ہوتی!!!

اپریل 4, 2026

لاکھ ناؤ نہیں کروڑ ناؤ

دسمبر 30, 2019

کوئی تو بات ہے ایسی جو اب نئی ہوئی ہے

مئی 15, 2020

قائد اعظم کا نوجوانوں سے ذاتی حیثیت سے خطاب !

اپریل 4, 2021

ترے قابل جو ہم سمجھے تو اپنا دل اُٹھا لائے

جنوری 30, 2020

سیاسی اردو ادب

مئی 25, 2024

ہم اہلِِ مہر و محبت طلب، رسد کے نہیں

اکتوبر 16, 2025

مجھے اَنا کے عِوض بے قیاس کھو دے گا

اکتوبر 24, 2025

بندگی و الوہیت

دسمبر 29, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہوش والوں کو کہاں علم

نومبر 14, 2021

کسی دوپہر میں تری گھڑی

ستمبر 20, 2020

اپنے محور سے ہٹ رہا ہوں...

جون 27, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں