خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباغزہ کے بچوں کے نام
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

غزہ کے بچوں کے نام

از سائیٹ ایڈمن مارچ 20, 2025
از سائیٹ ایڈمن مارچ 20, 2025 0 تبصرے 57 مناظر
58

دھوئیں اور گرد و غبار کے بادل روزانہ ابھرتے آفتاب کی نقاب پوشی کرتے۔ دن بھر فضائے آسمانی پر یہی چھائے رہتے۔ شام کو دبیز دھویں کی سحابی فوج تحت الثریٰ کی طرف جاتے سورج کی روشنی ڈھلنے سے بہت پہلے چھین لیتی۔ رات کو یہ سموگ پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی تو میرا کام مزید آسان ہو جاتا۔ تمام علاقہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ عمارتیں عجب ہیبت کذائی کی صورت اختیار کر چکی تھیں۔ چہار اطراف پھیلی بدترین تاریکی میری ہم نوا ہو کر مبہم شور میں خوف کا عنصر پیدا کر رہی تھی۔

سراسیمگی پھیلانے میں دھیرے دھیرے بڑھتے میرے قدموں کے ہم پلہ کوئی بھی نہیں ہو سکتا تھا صرف حشرات الارض تھے جو ماتمی جلوس کی شکل میں میرے ہم رکاب رہتے۔

میری کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی، رات کا سکون تباہ ہوتا دیکھ کر، تنفر و ناگواری سے بھری ستاروں کی ڈوبتی نگاہوں میں نا امیدی اور مایوسی چھا گئی اور انہوں نے دھند میں منہ چھپا لیا۔

لوگ اپنے ٹوٹے پھوٹے اندھیرے گھروں میں دبکے بیٹھے تھے۔ دھند سایہ شب کے ساتھ کثیف ہوتی جا رہی تھی۔ فاصلہ کی چیزیں مبہم اور پراسرار صورتیں اختیار کیے ہوئے تھیں۔ کہیں سے کوئی آواز ابھرتی سنائی دیتی نہ کسی گھر سے روشنی کی کوئی کرن دکھائی دے رہی تھی۔ میرے آنے کی ہیبت سے سب کو سانپ سونگھ گیا تھا۔

بہت پہلے تو عوام الناس میں اتنی سراسیمگی نہیں تھی۔ اب میری دہشت میں کافی اضافہ ہو گیا تھا۔ کبھی کبھی تو لوگ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر میرے سامنے آ کھڑے ہوتے تھے۔ لڑائی ہوتی، وہ مقابلہ کرتے۔ میرے کام میں رکاوٹ ڈالتے۔ میں بھی اپنی دھن کی پکی تھی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ بہت مشکل ہوتی مجھے اپنے ساتھیوں کو مدد کے لیے بلانا پڑتا۔ وحشت و بربادی اور مار کاٹ میں اصل لوگوں کے علاوہ دوسروں کو بھی نقصان پہنچ جاتا۔ جگہ جگہ گوشت کے لوتھڑے بکھر جاتے۔ زمین خون سے رنگین ہو جاتی۔ گرچہ مجھے سالم مال نہ ملتا، ٹوٹی پھوٹی چیزیں لے کر لوٹنا پڑتا لیکن کامیابی ہمیشہ میری ہی ہوتی۔

میری فتح اور ان کی شکست کے بعد ہر طرف نوحہ ماتم کی صدائے جگر دوز سنائی دیتی۔ میری کامیابیوں کا ذکر رنج و الم کی داستانوں میں ملتا ہے آپ بھی پڑھ سکتے ہیں۔

مجھے خود اپنا کام نہیں بھاتا۔ لیکن مجبوری تھی کہ اس کے علاوہ اور کیا کرتی؟ مجھے یہی سکھایا گیا تھا۔ بلکہ یہ تو میری سرشت میں شامل تھا۔

کبھی کبھی تو لوگ اتنے مجبور ہو جاتے کہ کہ خود ہی مجھے بلانے لگتے، میری مدد کرتے۔ لیکن اب تو ہر طرف میرے خلاف نفرت ہی نفرت پھیلی ہوئی تھی۔

میں بھرپور کوشش کرتی کہ میرا کام بھی ہو جائے اور لوگوں کو تکلیف بھی کم سے کم ہو۔ بعض مرتبہ لوگ خود کو یا دوسروں کو ایسی اذیت میں ڈال دیتے کہ مجھے دکھ ہونے لگتا۔ میرا دل بھی خون کے آنسو روتا۔ زندگی میں ایسے مواقع بھی آئے کہ اس دکھ بھرے کام کو چھوڑنا چاہا۔ سوچا کہ میں یہ کام نہیں کروں گی۔ آج رات بھی میری یہی حالت تھی۔

مجھے ایک سکول سے کچھ بچوں کو اٹھا کر لانا تھا، معصوم بچوں کو۔ میں کٹھور روپ اور دھندلے ذہن کے ساتھ غبار آلود راستوں پر چلتی ہاسٹل کی طرف بڑھ رہی تھی۔ میں نے بہت سے غلط کام کیے لیکن یہ مجھے ہمیشہ بہت دکھ دیتا تھا۔ اسی لیے میں نے اندھیری رات کا انتخاب کیا تاکہ میرے ظلم کو لوگ دیکھ نہ سکیں۔ وہ سوئے ہوں اور میں کام کر کے چلتی بنوں۔ ان کو پتا چلے گا تو دکھی تو ہوں گے لیکن کسی کی آنکھوں کے سامنے اس کے پیارے کو اٹھا لے جانا زیادہ درد ناک فعل ہے۔ میں دیے گئے وقت سے پہلے وہاں پہنچنا چاہتی تھی تاکہ اس ظلم عظیم کے لیے خود کو تیار کرلوں۔ مجھے حوصلہ اکٹھا کرنے کے لیے کچھ وقت چاہیے تھا۔

***

رات انتہا درجہ تاریک تھی اور کمرہ مضطرب کن سکون میں ڈوبا ہوا۔ بچیاں سو رہی تھیں۔ میں نے اپنا حلیہ بدل لیا۔ کوشش کی کہ میرے چہرے پر نرمی اور پیار کی جھلک نظر آئے۔ میں بچوں کی بیچ ہی لیٹ گئی اور گنگناتے ہوئے انہیں پیار سے سہلانے لگی۔ ان کے چہرے اتنے سپید، ملائم اور نازک تھے جیسے موسم بہار کی نورانی صبح میں کھلے ہوئے سفید گلاب کے پھول۔ ایک بچی میرے ٹھنڈے لمس کو پاتے ہی جاگ گئی۔

”آپ کون ہیں؟“ اس کے لہجے میں اضطراب کی جھلک اور چہرے پر بے چینی صاف نظر آ رہی تھی۔
”تمہاری پیاری آنٹی۔“
”آنٹی آپ ہمارے بیڈ پر کیوں لیٹی ہیں؟“
”یہ جگہ اچھی نہیں۔ میں تمہیں ان مشکلات سے نکالنا چاہتی ہوں۔“
میرے لہجے میں رحم اور ہمدردی کا احساس دیکھ کر اس کا خوف رفع ہو گیا لیکن پریشانی برقرار تھی۔
”آنٹی، کیا دنیا میں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں ہمیں سکون مل سکے گا؟“
”ہاں میں تمہیں ادھر ہی لے کر جا رہی ہوں۔“
باقی بچے بھی جاگ کر ہماری گفتگو سن رہی تھے۔

آج میں سفید کپڑے اوڑھ کر، خوبصورت حلیے میں ان کے سامنے آئی تھی۔ میری چال کامیاب ہو گئی۔ سب بچے مجھے پیار کر رہے تھے شاید انہوں نے میرے جیسی خوبصورت اور صاف ستھری دوسری کوئی ہستی دیکھی ہی نہیں تھی۔ میں نے ان کو پریوں کے دیس کی کہانیاں سنائیں۔ پرندوں کی خوبصورتی، نہروں کی روانی اور ٹھنڈی چھاؤں تلے کھیل تماشے کی باتیں کیں۔ انہیں خوبصورت کھلونوں، کھانوں اور کپڑوں کے بارے میں بتایا۔ یہ صرف شیریں گفتار نہیں، سچ بھی تھا: انہیں بہت اچھی زندگی ملنے والی تھی۔

میں نے پوچھا کہ اب چلیں؟
سب تیار تھے۔ میں ان کا ساتھ پا کر ہواؤں میں اڑنے لگی۔
بھولے بھالے بچے مجھ پر اعتماد کر رہے تھے۔
سب اپنے بستروں سے نکل کر کھڑے ہو گے۔ کسی نے میرا ہاتھ تھام لیا اور کسی نے دامن۔
بستر ویسے ہی تھے۔ ان پر گندے کمبل پڑے تھے اور ان بستروں میں اب کوئی ہل جل نہ تھی۔
”آنٹی میرے بابا نہیں ہیں۔ میری ماں کو بھی ساتھ لے چلیں۔ وہ اکیلی روئے گی۔“ ایک بچی بولی۔
”یہ ممکن نہیں۔“
”پھر میں بھی نہیں جاؤں گی۔“
یہ کہہ کر اس نے منہ پھیر لیا۔
سب اس کے ہم نوا ہو گئے۔
کسی کی ماں نہیں تھی، کسی کا باپ اور کوئی بالکل لاوارث۔
باقی بچوں نے بھی میرا دامن چھوڑ دیا۔ مجھے تو صرف بچوں کو لانے کا کہا گیا تھا۔

میرے سینے میں شدید ٹیس اٹھی۔ میں ان معصوم بچوں کو لے جانے پر کیسے تیار ہو گئی تھی؟ انہوں نے اس دنیا میں دیکھا ہی کیا تھا؟ ان کی ماؤں کا کیا حال ہو گا؟ دھول مٹی، بھوک افلاس، ڈر خوف میں پلنے والے ان بچوں کو میری اصلیت کا پتا چلے گا تو کیا سوچیں گے؟ ان کی مائیں بہنیں اور رشتہ دار مجھے کوسیں گے۔ لوگ ناخنوں سے اپنے چہرے نوچ لیں گے، پتھروں سے سر پھوڑ لیں گے۔ ویران اجڑے راستے سینہ کوبی کرنے والوں سے اٹ جائیں گے۔ سارا شہر ماتم کدہ ہو گا۔ ہر گلی ہر گھر میں بچوں کا سوگ منایا جائے گا۔ حلقہ حلقہ لوگ ہوں گے، نوحہ ہو گا۔ مہذب دنیا والے تا قیامت مرثیہ خوانی کریں گے۔ دردناک صدائے ماتم اور نوائے سینہ زنی کی گونج ہر طرف پھیل جائے گی۔ دھرتی چیخ اٹھے گی اور آسمان خون کے آنسو برسائے گا۔

آج تک میں نے جو بھی کیا یہ ان سب سے گھناؤنا فعل تھا۔ مجھے خود سے گھن آ رہی تھی۔ اس کام سے کراہت میں اضافہ ہو گیا۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ بس بہت ہو چکا، اب یہ کام نہیں کروں گی۔

میں دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔ پیاری بچی کا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا۔ اس کے پاک، معصوم اور خوبصورت چہرے پر پیار کرتے ہوئے لوری دینے لگی۔ بے حس و حرکت سر میں جنبش پیدا ہوئی اور وہ واپس آ کر اپنے بستر میں دراز ہو گئی۔ باقی بچے بھی اپنے کمبلوں کے اندر چلے گئے۔ سینے کے زیر و بم سے نظر آ رہا تھا کہ مردہ پڑے بچوں میں سانس چلنا بحال ہو گیا ہے۔ کچھ نے کروٹ بدلی اور میری طرف مشکور لہجے میں دیکھتی ہوئی سو گئیں۔

***

یہ تلون میری فطرت نہیں تھا۔ خون ریزی، دکھ درد، مصائب اور دیگر ساتھی خجالت بھی طنزیہ نگاہوں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ میں نے حکم دیا ”سب واپس چلیں“ اور ہاسٹل سے باہر نکل آئی۔

عین اسی وقت آسمان سے گھن گرج اور شعلے برسنے لگے۔ ہر طرف دھماکے شروع ہو گئے۔ طیاروں کی ایک ٹولی جاتی تو دوسری آ جاتی۔ ہاسٹل کی عمارت کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ میں نے تو ہمت کر لی تھی لیکن ان بچوں پر طاری نحوست طالع کا یہ سلسلہ ختم ہونے والا نہیں تھا۔ غزہ کا مقدر بارود اور آگ و خون سے لکھا گیا تھا۔ اس تفتہ زمین کے مکینوں کی قسمت میں صدائے یاس کے دردناک نغمے تھے، خونریزی تھی؛ در بدر کی ٹھوکریں اور بے بسی تھی، موت تھی۔

مسلسل بمباری سے ساری عمارت زمین بوس ہو گئی۔ میں سر جھکائے، اپنے ساتھیوں سمیت دھول، آگ اور دھویں سے اٹے اس کھنڈر میں داخل ہو گئی۔

سید زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ممانعت کا قانون
  • کبھی آباد تھا یہ شہرِ جاں بھی
  • تکمیل
  • کوئی تو ہو جو ہمیں خوف سے رہائی دے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
قدرت سے قیمت تک
پچھلی پوسٹ
مجرائی! جب کہ شہ نے سر

متعلقہ پوسٹس

مری سرشت نہیں ہے گناہ کا پتھّر

جون 20, 2020

سرائیکی وسیب کا عشق ممنوع

دسمبر 7, 2019

اب اور تب

جنوری 25, 2020

ایک موہوم سی امید پہ چل پڑتا ہے

جنوری 30, 2020

رشتہ یا خدا

دسمبر 30, 2019

کیپٹن۔عباس خان شہید

فروری 13, 2026

ابتداء اور انتہا تها میں

مئی 21, 2020

ڈیجیٹل دور میں تعلیم کا نیا رخ

ستمبر 19, 2025

خیال و خواب کے دفتر جگہ نہیں بنتی

جنوری 29, 2020

میجر عدنان: ایک زندہ روایت

ستمبر 10, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زیرو سے ہیرو تک کا سفر!

دسمبر 26, 2025

اُردو غزل کی فنی و فکر...

اگست 22, 2022

14اگست: جشنِ آزادی اور اس کے...

اگست 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں