خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہم ڈوب رہے ہیں ہار جیت کے درمیان!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

ہم ڈوب رہے ہیں ہار جیت کے درمیان!

از سائیٹ ایڈمن جون 8, 2021
از سائیٹ ایڈمن جون 8, 2021 0 تبصرے 45 مناظر
46

یہ ممکن نہیں کہ سوچوں کی بھرمار آپکے ذہنوں میں گھسنے کی کوشش نا کرتی ہو، اس عمل کو زندہ ذہنوں کی علامت سمجھ سکتے ہیں،یہاں یہ سوال بھی آجاتا ہے کہ کتنے اذہان ان سوچوں کو جگہ دیتے ہیں اور کتنے انہیں خود لگائی گئی چھلنی سے گزار کر منتخب شدہ عمل کیلئے گنجائش دیتے ہیں۔ چھلنی تو ہر دماغ میں لگی ہوتی ہے جو اپنی پسند کی سوچ کو اندر آنے کی بلا تعطل اجازت دے دیتی ہے اور بھلے ہی حق بات کیوں نا ہو اگر پسند نہیں تو فوراً خارج کردیتی ہے۔ سماجی ابلاغ کے اس دور میں کسی مخصوص سوچ پر زیادہ دیر تک دھیان دینا تقریباً ناممکن دیکھائی دے رہا ہے۔ یہاں یہ بھی لکھنے دیجئے کہ دماغوں کا یا سوچوں کا اختیار اب ہمارے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے ان آلات کے پاس ہے جو سڑکوں پر حادثوں کا باعث بھی بن رہے ہیں، چولہے پر رکھی ہانڈی کے جلنے کا سبب بھی بن رہے ہیں، جو فیڈر بچے کے منہ میں لگانے کی بجائے ساتھ بیٹھی بلی کے منہ میں لگانے کا سبب بھی بن رہے ہیں،اورسب سے بڑھ کر گھریلو زندگیوں کو برباد کرنے کے بھی آلہ کار بن رہے ہیں غرض یہ کہ تقریباً ہر طر ح کے امور و معمولات کو برباد کرنے میں کارگر ثابت ہو تے دیکھائی دے رہے ہیں (دشمن نے اطمنان کا سانس لیا ہوا ہے کہ سماجی، اخلاقی اور معاشرتی اقدار کو بڑی آسانی سے بغیر کوئی بم گرائے برباد کردیا ہے اوریقینا اسکا کام ٹھیک سمت میں پیش رفت کر تا جارہا ہے یعنی سانپ بھی مر رہا ہے اور لاٹھی بھی نہیں توڑنی پڑ رہی)۔ آپ اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل میں کچھ دیکھتے ہیں اور اسکے بارے میں سوچنے ہی لگتے ہیں اور ابھی سوچنے کا عمل شروع ہی ہوا چاہتا ہے کہ کوئی نئی چیز آپکے سامنے آجاتی ہے جو سوچ کے زاوئیے کو یکسر بدلنے کیساتھ ساتھ مزاج ہی بدل دیتی ہے اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک آپکی انگلیاں آپکی آنکھوں کی طلب تک نہیں پہنچ پاتیں جسے تقریباً ناممکن سمجھ لیاجائے تو غلط نہیں ہے۔ بعض امور پر تو سماجی ابلاغ کسی میدان حرب کی سی صورت اختیار کرلیتا ہے اور بات زندگیاں اور عزتیں لینے تک پہنچ جاتی ہیں اور یہ سب ہم جانتے ہیں۔ یہ واقعات عوامی بھی ہیں اور اسکا شکار خواص بھی ہیں اور انہیں عوام کی آگہی کیلئے عام بھی کیا جاتا ہے (جوعزت جیسے لفظ کو ناپید کرنے کیلئے کارفرما ہے)لیکن کتنے فیصد لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں یا زندگیوں میں تبدلی رونما کرتے ہیں۔ ایک طرف تو اچھی تقلید کا ایسا طوفان ہے کہ جیسے سب کچھ بہا کر لے جائے گا اور اگلی صبح پوری امت فجر کیلئے باجماعت میدانوں میں نماز عید کی طرح پڑھتی دیکھائی دے گی(انشاء اللہ ایسا ہوگا)، لیکن سونے کاوقت ہی فجر کے ساتھ آجاتا ہے۔

مادہ پرستی کا دور دورہ ہے،اور فقط جسم پیدا ہورہے ہیں اور جسموں کی تزئین و آرائش کے بندوبست کئے جاتے ہیں۔ تزئین و آرائش کی مطابقت سے یہاں مختصراً ایک بزرگ (غالب گمان شیخ سعدی ؒ)کا واقع نقل کرتا چلوں کہ کسی بادشاہ کے دربار میں حضرت کو ضیافت پر مدعو کیا گیا بزرگ وہاں اپنے مخصوص لبا س میں وہاں پہنچے تو دربانوں نے لباس دیکھ کر اندر جانے کی اجازت نہیں دی کیونکہ وہاں ریاست کے امراء جمع تھے، بزرگ شاہانہ لباس زیب تن کر کے واپس آئے تو بغیر کسی روک ٹوک بمع فرشی سلام سے استقبال کیا گیا، انواع واقسام کے کھانے لگائے گئے اور کھانا شروع ہوا بزرگ بادشاہ کے خاص مہمان تھے تو بادشاہ کے قریب تشریف فرما ہوئے اب جب کھانا شروع ہوا تو بزرگ نے کھانا اپنے کپڑوں کو کھلانا شروع کردیا یعنی کپڑوں پر لگانا شروع کردیا، لوگوں نے یہ دیکھا تو پوچھا کہ حضرت یہ کیا معاملہ ہے جس پر بزرگ نے آگاہ کیا کہ دعوت تو ان زرق برق کپڑوں کی تھی تو کھانا بھی انہی کو کھانا چاہئے۔ یہ واقعہ کتنا پرانا ہے نہیں معلوم لیکن انسان کی نفسیات یا جبلت میں یہ چیز شامل ہے کہ وہ زرق برق کے تابع رہتا ہے۔ ہر چمکتی چیز اسے اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے۔

قدرت توجہ دینے والوں کی توجہ اس بات سے اپنی طرف متوجہ کیوں نہیں کروا رہی کہ دنیا میں موجود تقریباً سات ارب انسانوں کی آبادی میں گنے چنے انسان ایک جیسی شکل کے ہونگے جبکہ باقی ماندہ سب جدا جدا ہیں۔ قدرت کو کچھ اور مقصود ہے۔لفظوں کو دل تک رسائی ملنا آسان نہیں ہوتا، حالات و واقعات کی الفاظ کو دل تک رسائی دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔آج الفاظ کا ایسا سمندر بہہ رہا ہے کہ شائدپانی کے سارے سمندر اس کے سامنے معمولی دیکھائی دیں۔ اگر کوئی ان الفاظ سے قرطاس کو رنگین نہیں کررہا تو وہ بول کر اپنے الفاظ سماعتوں کیلئے معلق چھوڑ رہا ہے۔ کوئی نا کوئی پڑھ بھی لیتا ہے اور اسی طرح کوئی نا کوئی سن بھی لیتا ہے۔ شیخ سعدی ؒ فرماتے ہیں کہ جب تک تیرا غرور اور غصہ باقی ہے اپنے آپ کو نیک لوگوں میں شمار مت کرنا۔یعنی نیک لوگوں میں شامل ہونے کیلئے یہ اولین ترجیح ہے کہ تحمل مزاج ہو جو کسی کی کسی بھی قسم کی بات کو سننے اور اسے برداشت کرنے کیساتھ ساتھ صحیح تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بھی آراستہ ہو۔ بیشک یہ خداداد صلاحتیں اللہ رب العزت اپنے مقرب بندوں کو ہی دیتے ہیں اور انہیں معتبر کرنے کے اسباب بھی بنادیتے ہیں۔ ہم غور کریں تو ہم پہلے دن سے بچوں کی پرورش ہار اور جیت کیلئے کرتے دیکھائی دینگے، اچھا پڑھو گے تو اچھے نمبروں سے پاس ہوجاؤ گے، یہ کروگے تو یہ مل جائے گا۔

آج دوبتا ہوا وقت ہم سے چیخ چیخ کر تکازہ کررہا ہے کہ اپنے راستے پر لوٹ آؤ اپنی منزل کی طرف دوبارہ چلنا شروع کرو، جوکہ ایک انتہائی مشکل ترین کام ہوچکا ہے ہم نے اپنی نسل کو ایک ایسا منشور تھما دیا ہے جسکا دور دور تک ہم تعلق نہیں ملتا ہمارے گلے میں طوق ڈالنے کا دشمن کا خواب کتنی آسانی سے پورا ہوا ہے یہ دشمن نے بھی نہیں سوچا ہوگا، وہ سب کچھ وقت سے پہلے ہورہا ہے جسے وقت درکار تھا۔ آج ہم ادب کی بات کر لیں تو ساتھ بیٹھے بچے پوچھتے ہیں کہ یہ کس بلا کا نام ہے۔ اسلام نے دنیا کو تہذیب سے روشناس کروایا ادب و آداب کی داغ بیل ڈالی بڑے چھوٹے کا احترام نافذ کرایا ایک منظم معاشرے کی داغ بیل ڈالی، آج یہ سب کچھ مسلمانوں نے برآمد کردیا اور بے ہنگم زندگیاں درآمد کرلیں ہم نے سکون بیچ دیا اور بیچنے کے درپے ہیں ہر فرد کی خواہش ہے کہ اسکا بچہ کسی ایسے ملک میں جاکر پڑھے یا کام کرے جہاں اسے اچھے پیسے ملیں جہاں اسے نظم و ضبط والی زندگیاں ملیں، کیا ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی بربادی کا سامان نہیں کررہے۔ صبح سے شام تک بھی اگر آپ سماجی ابلاغ استعمال کرتے رہیں گے تو آپ کو پارسائی ہی پارسائی کا چرچا دیکھائی دیتا رہے گا۔ لیکن عملی طور پر ہم لوگ بلکل مختلف ہو چکے ہیں ہم محبِ وطن بھی نہیں کہلوانا چاہتے اور ہمیں اپنے دین پر فخر کرنے سے بھی خوف آتا ہے کہ کہیں ہمیں انتہاء پسند یا شدت پسند نا کہہ دیا جائے۔ حقیقت یہی ہے کہ ہمیں ہار اور جیت،کامیابی اور ناکامی کے درمیان کہیں بھٹکا دیا ہے اور ہم بھٹکنے کو ہی اپنی جیت اپنی کامیابی سمجھ کر پل پل جشن منائے جا رہے ہیں اور مزید بھٹکتے ہی چلے جا رہے ہیں۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نم نے نہیں پہنچنا نظر نے پہنچنا تھا
  • مختار مسعود کی تحریریں
  • مرحوم کی یاد میں
  • ہورے کیڑی گل توں ڈریا ہویا اے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ماحولیات کا دن اورماحولیاتی نظام کی بحالی!
پچھلی پوسٹ
اردو زبان و ادب پر جدید ٹیکنالوجی کے اثرات

متعلقہ پوسٹس

ادیبہ

نومبر 6, 2020

خود یہ فاقہ کش و نادار

مئی 31, 2024

تجھے لگتا ہے فقط کرکے

مئی 14, 2024

خزاں کے پاؤں تلے غنچہ و ثمر سے دور

مارچ 21, 2020

دو بَیل

اکتوبر 25, 2019

قرطبہ کا قاضی

جنوری 12, 2020

جن دنوں مجھ کو بہت پیار ہوا کرتا تھا

مارچ 19, 2022

خواجہ غلام فرید

نومبر 25, 2025

دیکھا تھا ایک دن اسے

ستمبر 26, 2025

خود سے لڑنا

جنوری 3, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

لہو لہو سا منظر دکھائی ریتا...

اگست 23, 2020

چائے چاہیے ؟؟

جولائی 25, 2022

درد کے گہرے سناٹے میں

دسمبر 23, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں