خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہم ڈوب رہے ہیں ہار جیت کے درمیان!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

ہم ڈوب رہے ہیں ہار جیت کے درمیان!

از سائیٹ ایڈمن جون 8, 2021
از سائیٹ ایڈمن جون 8, 2021 0 تبصرے 78 مناظر
79

یہ ممکن نہیں کہ سوچوں کی بھرمار آپکے ذہنوں میں گھسنے کی کوشش نا کرتی ہو، اس عمل کو زندہ ذہنوں کی علامت سمجھ سکتے ہیں،یہاں یہ سوال بھی آجاتا ہے کہ کتنے اذہان ان سوچوں کو جگہ دیتے ہیں اور کتنے انہیں خود لگائی گئی چھلنی سے گزار کر منتخب شدہ عمل کیلئے گنجائش دیتے ہیں۔ چھلنی تو ہر دماغ میں لگی ہوتی ہے جو اپنی پسند کی سوچ کو اندر آنے کی بلا تعطل اجازت دے دیتی ہے اور بھلے ہی حق بات کیوں نا ہو اگر پسند نہیں تو فوراً خارج کردیتی ہے۔ سماجی ابلاغ کے اس دور میں کسی مخصوص سوچ پر زیادہ دیر تک دھیان دینا تقریباً ناممکن دیکھائی دے رہا ہے۔ یہاں یہ بھی لکھنے دیجئے کہ دماغوں کا یا سوچوں کا اختیار اب ہمارے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے ان آلات کے پاس ہے جو سڑکوں پر حادثوں کا باعث بھی بن رہے ہیں، چولہے پر رکھی ہانڈی کے جلنے کا سبب بھی بن رہے ہیں، جو فیڈر بچے کے منہ میں لگانے کی بجائے ساتھ بیٹھی بلی کے منہ میں لگانے کا سبب بھی بن رہے ہیں،اورسب سے بڑھ کر گھریلو زندگیوں کو برباد کرنے کے بھی آلہ کار بن رہے ہیں غرض یہ کہ تقریباً ہر طر ح کے امور و معمولات کو برباد کرنے میں کارگر ثابت ہو تے دیکھائی دے رہے ہیں (دشمن نے اطمنان کا سانس لیا ہوا ہے کہ سماجی، اخلاقی اور معاشرتی اقدار کو بڑی آسانی سے بغیر کوئی بم گرائے برباد کردیا ہے اوریقینا اسکا کام ٹھیک سمت میں پیش رفت کر تا جارہا ہے یعنی سانپ بھی مر رہا ہے اور لاٹھی بھی نہیں توڑنی پڑ رہی)۔ آپ اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل میں کچھ دیکھتے ہیں اور اسکے بارے میں سوچنے ہی لگتے ہیں اور ابھی سوچنے کا عمل شروع ہی ہوا چاہتا ہے کہ کوئی نئی چیز آپکے سامنے آجاتی ہے جو سوچ کے زاوئیے کو یکسر بدلنے کیساتھ ساتھ مزاج ہی بدل دیتی ہے اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک آپکی انگلیاں آپکی آنکھوں کی طلب تک نہیں پہنچ پاتیں جسے تقریباً ناممکن سمجھ لیاجائے تو غلط نہیں ہے۔ بعض امور پر تو سماجی ابلاغ کسی میدان حرب کی سی صورت اختیار کرلیتا ہے اور بات زندگیاں اور عزتیں لینے تک پہنچ جاتی ہیں اور یہ سب ہم جانتے ہیں۔ یہ واقعات عوامی بھی ہیں اور اسکا شکار خواص بھی ہیں اور انہیں عوام کی آگہی کیلئے عام بھی کیا جاتا ہے (جوعزت جیسے لفظ کو ناپید کرنے کیلئے کارفرما ہے)لیکن کتنے فیصد لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں یا زندگیوں میں تبدلی رونما کرتے ہیں۔ ایک طرف تو اچھی تقلید کا ایسا طوفان ہے کہ جیسے سب کچھ بہا کر لے جائے گا اور اگلی صبح پوری امت فجر کیلئے باجماعت میدانوں میں نماز عید کی طرح پڑھتی دیکھائی دے گی(انشاء اللہ ایسا ہوگا)، لیکن سونے کاوقت ہی فجر کے ساتھ آجاتا ہے۔

مادہ پرستی کا دور دورہ ہے،اور فقط جسم پیدا ہورہے ہیں اور جسموں کی تزئین و آرائش کے بندوبست کئے جاتے ہیں۔ تزئین و آرائش کی مطابقت سے یہاں مختصراً ایک بزرگ (غالب گمان شیخ سعدی ؒ)کا واقع نقل کرتا چلوں کہ کسی بادشاہ کے دربار میں حضرت کو ضیافت پر مدعو کیا گیا بزرگ وہاں اپنے مخصوص لبا س میں وہاں پہنچے تو دربانوں نے لباس دیکھ کر اندر جانے کی اجازت نہیں دی کیونکہ وہاں ریاست کے امراء جمع تھے، بزرگ شاہانہ لباس زیب تن کر کے واپس آئے تو بغیر کسی روک ٹوک بمع فرشی سلام سے استقبال کیا گیا، انواع واقسام کے کھانے لگائے گئے اور کھانا شروع ہوا بزرگ بادشاہ کے خاص مہمان تھے تو بادشاہ کے قریب تشریف فرما ہوئے اب جب کھانا شروع ہوا تو بزرگ نے کھانا اپنے کپڑوں کو کھلانا شروع کردیا یعنی کپڑوں پر لگانا شروع کردیا، لوگوں نے یہ دیکھا تو پوچھا کہ حضرت یہ کیا معاملہ ہے جس پر بزرگ نے آگاہ کیا کہ دعوت تو ان زرق برق کپڑوں کی تھی تو کھانا بھی انہی کو کھانا چاہئے۔ یہ واقعہ کتنا پرانا ہے نہیں معلوم لیکن انسان کی نفسیات یا جبلت میں یہ چیز شامل ہے کہ وہ زرق برق کے تابع رہتا ہے۔ ہر چمکتی چیز اسے اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے۔

قدرت توجہ دینے والوں کی توجہ اس بات سے اپنی طرف متوجہ کیوں نہیں کروا رہی کہ دنیا میں موجود تقریباً سات ارب انسانوں کی آبادی میں گنے چنے انسان ایک جیسی شکل کے ہونگے جبکہ باقی ماندہ سب جدا جدا ہیں۔ قدرت کو کچھ اور مقصود ہے۔لفظوں کو دل تک رسائی ملنا آسان نہیں ہوتا، حالات و واقعات کی الفاظ کو دل تک رسائی دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔آج الفاظ کا ایسا سمندر بہہ رہا ہے کہ شائدپانی کے سارے سمندر اس کے سامنے معمولی دیکھائی دیں۔ اگر کوئی ان الفاظ سے قرطاس کو رنگین نہیں کررہا تو وہ بول کر اپنے الفاظ سماعتوں کیلئے معلق چھوڑ رہا ہے۔ کوئی نا کوئی پڑھ بھی لیتا ہے اور اسی طرح کوئی نا کوئی سن بھی لیتا ہے۔ شیخ سعدی ؒ فرماتے ہیں کہ جب تک تیرا غرور اور غصہ باقی ہے اپنے آپ کو نیک لوگوں میں شمار مت کرنا۔یعنی نیک لوگوں میں شامل ہونے کیلئے یہ اولین ترجیح ہے کہ تحمل مزاج ہو جو کسی کی کسی بھی قسم کی بات کو سننے اور اسے برداشت کرنے کیساتھ ساتھ صحیح تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بھی آراستہ ہو۔ بیشک یہ خداداد صلاحتیں اللہ رب العزت اپنے مقرب بندوں کو ہی دیتے ہیں اور انہیں معتبر کرنے کے اسباب بھی بنادیتے ہیں۔ ہم غور کریں تو ہم پہلے دن سے بچوں کی پرورش ہار اور جیت کیلئے کرتے دیکھائی دینگے، اچھا پڑھو گے تو اچھے نمبروں سے پاس ہوجاؤ گے، یہ کروگے تو یہ مل جائے گا۔

آج دوبتا ہوا وقت ہم سے چیخ چیخ کر تکازہ کررہا ہے کہ اپنے راستے پر لوٹ آؤ اپنی منزل کی طرف دوبارہ چلنا شروع کرو، جوکہ ایک انتہائی مشکل ترین کام ہوچکا ہے ہم نے اپنی نسل کو ایک ایسا منشور تھما دیا ہے جسکا دور دور تک ہم تعلق نہیں ملتا ہمارے گلے میں طوق ڈالنے کا دشمن کا خواب کتنی آسانی سے پورا ہوا ہے یہ دشمن نے بھی نہیں سوچا ہوگا، وہ سب کچھ وقت سے پہلے ہورہا ہے جسے وقت درکار تھا۔ آج ہم ادب کی بات کر لیں تو ساتھ بیٹھے بچے پوچھتے ہیں کہ یہ کس بلا کا نام ہے۔ اسلام نے دنیا کو تہذیب سے روشناس کروایا ادب و آداب کی داغ بیل ڈالی بڑے چھوٹے کا احترام نافذ کرایا ایک منظم معاشرے کی داغ بیل ڈالی، آج یہ سب کچھ مسلمانوں نے برآمد کردیا اور بے ہنگم زندگیاں درآمد کرلیں ہم نے سکون بیچ دیا اور بیچنے کے درپے ہیں ہر فرد کی خواہش ہے کہ اسکا بچہ کسی ایسے ملک میں جاکر پڑھے یا کام کرے جہاں اسے اچھے پیسے ملیں جہاں اسے نظم و ضبط والی زندگیاں ملیں، کیا ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی بربادی کا سامان نہیں کررہے۔ صبح سے شام تک بھی اگر آپ سماجی ابلاغ استعمال کرتے رہیں گے تو آپ کو پارسائی ہی پارسائی کا چرچا دیکھائی دیتا رہے گا۔ لیکن عملی طور پر ہم لوگ بلکل مختلف ہو چکے ہیں ہم محبِ وطن بھی نہیں کہلوانا چاہتے اور ہمیں اپنے دین پر فخر کرنے سے بھی خوف آتا ہے کہ کہیں ہمیں انتہاء پسند یا شدت پسند نا کہہ دیا جائے۔ حقیقت یہی ہے کہ ہمیں ہار اور جیت،کامیابی اور ناکامی کے درمیان کہیں بھٹکا دیا ہے اور ہم بھٹکنے کو ہی اپنی جیت اپنی کامیابی سمجھ کر پل پل جشن منائے جا رہے ہیں اور مزید بھٹکتے ہی چلے جا رہے ہیں۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  •  ماں
  • کوئی صاف صاف دکھتا ہے
  • تنہائی، فطرت اور خود شناسی
  • عزیز پوچھ رہے ہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ماحولیات کا دن اورماحولیاتی نظام کی بحالی!
پچھلی پوسٹ
اردو زبان و ادب پر جدید ٹیکنالوجی کے اثرات

متعلقہ پوسٹس

دوہزار بیس بھی گزر گیا!

جنوری 2, 2021

کورونا ڈوبتی انسانیت کے نام کھلاخط!

مئی 13, 2021

رقصِ طلب

نومبر 27, 2024

تم جاننا چاھو کہ میرے اندر ہے کون

مارچ 1, 2020

طمانچہ

نومبر 29, 2019

اتنا نڈھال دل تری فرقت میں ہو گیا

نومبر 6, 2021

ترجیحات

مئی 8, 2020

محبت، روح اور بنکاک کا سفر

دسمبر 31, 2024

صاحب دھیان دیجئے

اپریل 3, 2022

انشاء کا اعظمی کو تیسرا خط

دسمبر 2, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

گھما لیا ترا کنگن بھی اور...

اکتوبر 16, 2025

نہ جسم تیرا ۔ نہ مرضی...

مارچ 9, 2020

وہ آنکھ جس کو گہر کی...

دسمبر 15, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں