خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباماحولیات کا دن اورماحولیاتی نظام کی بحالی!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

ماحولیات کا دن اورماحولیاتی نظام کی بحالی!

از سائیٹ ایڈمن جون 5, 2021
از سائیٹ ایڈمن جون 5, 2021 0 تبصرے 63 مناظر
64

ماحولیات کا دن اورماحولیاتی نظام کی بحالی!

بتائے گئے اصولوں پر عمل نا کرنے سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے او روہ اصول یا قواعد قدرت نے طے کئے ہوں اور اسکی خلاف ورزی کی جائے تو نقصان کا تخمینہ لگانا شائد ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔ بلکل ایسے ہی ہے کہ انسان کے کسی اعضاء کی پیوندکاری کی جائے عضو کا جڑجانا یا تبدیل ہوجانا تو ممکن ہے لیکن بلکل ویسا ہی جیسا تھا قطعی ناممکن سی بات ہے۔ خالق کائنات کی تشکیل دیئے گئے نظام کائنات میں تقریباًایک چھوٹے سے حصے جسے ہم سب کرہ ارض یا زمین کے نام سے جانتے ہیں انسانوں کے رہنے کیلئے منتخب کیا۔ زمین کو انسانوں کے رہنے کیلئے مکمل طور پر تیار کیا گیا اور مسلسل بہتری کی بنیاد کی گنجائش رکھ کر انسانوں کے جد امجد حضرت آدم ؑ کو زمین پر بطور بنی نوع انسان بھیجا۔ وقت گزرتا گیا انسانوں کی تعداد کے بڑھنے کیساتھ قدرت نے زندگی کے خاتمے کیلئے موت کا بھی ایک عمل شروع کیا تاکہ دنیا کو زیادہ سے زیادہ انسانوں سے روشناس کرایا جاسکے۔ اللہ تعالی چاہتے تو موت کی تخلیق نا کرتے کیونکہ کائنات کی وسعتیں تو تاحال اتنی جدیدیت کے باوجود انسان کے گمان سے بھی باہر ہیں لیکن موت نا ہوتی تو تخلیق کار کی پہچان کیسے ہوتی اور پھر ضابطے اور قاعدے کا درس کیسے ملتا یعنی صرف زمین کو انسان کے رہنے کیلئے چنا گیا تو چنا گیا۔

انسانوں نے طاقت سے یا باہمی رضامند ی سے سرحدوں کا تعین کر لیا اور زمین کی مختلف حصوں میں تقسیم ہوگئی۔انسانوں کے رہنے کیلئے کائنات میں زمین کا چناؤ اسلئے کیا گیا کہ یہاں زمین میں وہ تمام نباتات چھپا کر رکھی گئیں جو انسان کی نشونما سے لیکر اسکی طاقت اور علاج معالجے کیلئے ضروری تھیں پھر یہاں پانی کا بندوبست کیا گیا اور پانی بھی طرح طرح کے، بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی اسی زمین میں ایسی ایسی نایاب مدنیات رکھی گئیں جس کا استعمال بھی قدرت نے انسانوں کو سکھایا، پھر انسان نے طاقت کے بل بوتے پر انہیں اشیاء پر زمین پر قبضے کرنا شروع کئے جس کے پاس طاقت تھی اسنے کمزور کو ناصرف تابعدار بنایا بلکہ زمین سے حاصل ہونے والے اجناس و مدنیات پر بھی قبضہ کیا، اسطرح سے انسان کو یہ بات سمجھ میں آگئی کے اگر طاقت ہوگی تو وہ کسی کو بھی اپنی مرضی کیلئے حکم دے سکے گا۔ اب طاقت بڑھانے کیلئے علم کی ضرورت تھی علم حاصل کیا گیا اور علم سے پتہ چلا کہ کس کس طرح سے انسان، انسان کو زیر کر سکتا ہے کیونکہ جانوروں کو تو وہ غاروں کے زمانے میں ہی زیرکر چکا تھا۔ مخصوص علاقوں پر قبضہ کرنے کا خواب سرحدوں میں قید جنگجؤوں نے دیکھنا شروع کیا۔ جانوروں پر سفر کرنا اور دوبدو جنگ کرنے میں زیادہ سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوتی تھیں اسلحہ کی ایجاد کی گئی جس سے یہ ہوا کہ جو طاقتور تھا جو مالی طور پر مستحکم تھا اسنے اسلحہ ناصرف بنانا نہیں شروع کیا بلکہ بیچنا بھی شروع کیا اسی طرح سے سفر کی سہولیات میں جدیدت بحری جہازوں سے شروع ہوتی ہوئی ہوائی جہازوں تک پہنچی اور آج دنیا نے تیز ترین ہوائی لڑاکا طیارے بنالئے ہیں۔ انسان نے اس سفر میں درختوں سے بے تحاشہ کام لئے، پہاڑوں کو توڑپھوڑ کی، پانیوں کے راستے بدلی کئے،شکار کئے، آگ جلائی وغیرہ وغیرہ موجود سہولتوں کا بے دریغ استعمال کیا۔ غرض یہ کہ جدیدیت اپنے عروج کی منزلیں طے کرتی ہوئی اکیسویں صدی میں داخل ہوگئی۔ طاقت کے حصول کیلئے انسان نے انسان پر حکمرانی کرنے کیلئے مہلک ترین اسلحہ تیار کرلیا۔ دوسرے پہلو پر بھی نظر ڈال لیتے ہیں جسے ہم جدیدیت کہہ رہے ہیں وہ دراصل ہے کیا، صنعتوں کا جال بچھایا جارہا ہے، زمینی، ہوائی اور بحری ہر طرح کے ذرائع آمد ورفت کو آسان ترین بنانے کی کوششیں تاحال جاری ہیں، زمین سے اجناس کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کیلئے مصنوعی زراعت کے طریقے استعمال کئے جا رہے ہیں، پھر یہی انسان سکون کیلئے طرح طرح کا نشہ استعمال کررہاہے۔قدرت نے طرز زندگی کی بنیادی چیزیں فراہم کردی تھیں لیکن انسان اپنی جلد بازی سے مجبور اور قدرت کی بنائی ہوئی تقریباً اشیاء میں کچھ نا کچھ تبدیل کرنے کی جستجو میں مگن ہے۔

آسائشوں اور طاقت کے پیچھے بھاگتے انسان نے سب سے زیادہ ماحولیات کو تہہ و بالا کردیا اور اس بات کی ضرورت محسوس کی جانے لگی کے اب ماحول کو بچانے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں، اسطرح سے سے مستقبل کو محفوظ بنانے کا خیال آیا اورماحولیات کے متعلق آگاہی فراہم کرنے محفوظ بنانے کیلئے اقدامات کا تعین کرنے کیلئے سن 1972امیں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں ہر سال5 جون کو ماحولیات کا عالمی دن منانے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ اس دن کے توسط سے دنیا کو زمینی ماحولیات کو بچانے کیلئے اقدامات کی طرف پیش رفت کرنے کیلئے اکسانا تھااور یاد دہانی کروانی تھی۔ ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ قدرت کی عطاء کردہ کسی بھی چیز کو برباد کرتے ہوئے کسی ملک نے دوسرے ملک سے کوئی باہمی رابطہ نہیں کیا اور نا ہی کسی ماہر سے یا ترقی یافتہ سے مشورہ کیا اسی طرح تقریباً ممالک نے کوئی نا کوئی ایسا عمل ضرور کیا جس کی وجہ سے کرہ ارض کا ماحول تباہی کے داہنے پر پہنچ گیا (اسی لئے کوئی کسی کو الزام نہیں دیتا)۔ اس میں جنگلات کو کاٹنے کا مسلۂ تھا، اس میں خام تیل کا سمندر میں خارج ہونے کیساتھ ساتھ دیگر زہریلے فضلاء کا اس میں شامل ہونا(جو آبی حیات کو بری طرح سے نقصان پہنچا رہاہے)، جنگلی حیات کا ناپید ہونا اور سب سے بڑھ کر ایٹم بم کا جاپان کے شہر پر ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرایا جانا بھی شامل ہے۔ بااختیار اور اثر و رسوخ والے ممالک نے ایسے بڑے اور ہیبت ناک مسائل کو پس پشت ڈال کر عوام کو چھوٹے چھوٹے بنیادی مسائل کی طرف متوجہ کروا یا جن میں پلاسٹک کی تھیلیاں اور بوتلیں، مختلف قسم کے ڈبے، سگریٹ نوشی وغیرہ ماحولیات کیلئے زہر قاتل بنا کر پیش کردی گئیں۔ چرندپرند مر رہے ہیں۔

یہ ایک غیر سیاسی فیچر ہے لیکن اسکے باوجود قابل ذکر کام کا ذکر کیا جانا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور موجودہ وزیر اعظم پاکستان نے ماحولیات کے حوالے سے اقتدار میں آنے سے قبل ہی دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا پھر ماحول سے شناسائی کی مناسبت سے،ماحول کی بحالی کیلئے بغیر کسی تختی لگاؤ تحریک کے دس ارب درخت لگانے کی مہم کا بھرپور آغاز کیا اور اسکے لئے عملی طور پر میدا ن میں برسر پیکار ہوئے، خان صاحب کی شخصیت کا ایسا سحر تھا کہ لوگوں کا ایک ہجوم خیبر سے کراچی تک اس کارِ خیر میں شامل ہوگیا، لق و دق میدانی علاقے اور بے تحاشہ ایسے مقامات جہاں شجر کاری مہم کی جاسکتی تھی بھر پور طریقے سے کی گئی، اول تو اس تحریک کا حسب ِ معمول سیاسی مذاق بنایا گیا لیکن خان صاحب اپنے کام سے کام رکھنے والے آدمی ہیں وہ جو ٹھان لیتے ہیں اسے منطقی انجام تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں، وقت کیساتھ ساتھ میدان سرسبز و شاداب ہوتے دیکھے جانے لگے اور دس ارب درختوں کا خواب عملی طور پر زمینوں پر دیکھائی دینے لگا اور ایک بار پھر سیاسی مخالفین کو منہ کی کھانی پڑی،بات یہاں ختم نہیں ہوئی، وزیر اعظم بننے کے بعد یہ درخت لگاؤ مہم پورے ملک میں شروع کردی گئی تمام وزارتیں اور انکے ذیلی ادارے درخت لگاؤ مہم کا حصہ بن گئے، طالب علموں نے اس عمل میں بھرپور حصہ لیا اور پاکستان نے سرسبز پاکستان کی طرف تیزی سے پیش قدمی شروع کردی۔ اسی بنیاد پر پاکستان کو اس سال 2021 ماحولیات کے عالمی دن کی میزبانی کا شرف ملا ہے۔

ایک طرف تو ماحولیات کی تباہی کا عالمی سطح پر ماتم کیا جارہا ہے تو دوسری طرف مہلک ہتھیاروں کا استعمال بے دریغ ہورہاہے، دھماکے کئے جارہے ہیں کبھی زیر زمین تو کبھی سمندروں میں یہ مہلک آلودگی پیدا کی جاتی ہے،مصنوعی کھاد بنائی جا رہی ہے جو یقینا انسانی غذائی آلودگی کا سبب بن رہی ہوگی، ذرائع آمد ورفت میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہورہاہے، صنعتوں کوبڑھانے پر زور دیا جارہاہے، پلاسٹک کی اشیاء بڑھ چڑھ کر بازار میں دستیاب ہیں۔ ہم اسے کھلا تضاد کہہ سکتے ہیں۔ یہاں یہ بھی واضح کرتے چلیں کہ دنیا میں بہت کم ایسے ممالک ہیں جنہوں نے ماحولیات کی بہتری کیلئے یقینی اقدامات کر رکھے ہیں سوائے اسکے کہ پاکستان نے دس ارب درخت لگانے کا منفرد منصوبہ دنیا کو دیا ہے۔ نیوزی لینڈ وہ ملک ہے جہاں فیضائی آلودگی نا ہونے کے برابر ہے، بجلی کی پیداوار ایسے ذرائع سے کی جاتی ہے جو آلودگی کا کم سے کم سبب بنتے ہیں، سنگاپور وہ ملک ہے جس نے 2008 میں اس خطرے کو بھانپ لیا تھااور اپنے لئے طے کیا تھا کہ وہ بہت جلد فضلہ سے پاک ملک بن جائینگے اور یہ سب سرکاری سطح پر کر رہے ہیں، اسی طرح سویڈن، ڈینمارک، برطانیہ وغیرہ ماحول دوست حالات پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ کہیں کچرے کو زمین میں دبانے یا پھر آلودگی بننے کی بجائے دوبارہ سے استعمال کے قابل مختلف اشیاء بنائی جا رہی ہیں، اسی طرح سے بجلی سے بننے والی گاڑیوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے، بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں پیدل چلنے یا ایسے ذرائع استعمال کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے جن سے دھواں خارج نا ہو، بین الاقوامی ادارے ماحول کی محفوظ اور اسکی حفاظت کیلئے کسی نا کسی کی تقریبات کا انعقاد کرتے رہتے ہیں، جن میں ساحلوں کی صفائی ایک انتہائی اہم عمل ہے، اب اسی طرح کے کاموں کی ضرورت شمالی علاقاجات میں بھی کرنے کی ضرورت ہے، لوگوں میں آگاہی کی مہم بہت ضروری ہے گوکہ اب تو اسکول کے نصاب میں بھی ماحولیات سے متعلق علم فراہم کیا جارہا ہے۔ قدرت کی فراہم کردہ سہولیات جن میں سورج کی روشنی، ہوا اور پانی سے بجلی کبھی بھی بنائی جاسکتی تھی لیکن سب تباہ برباد کرنے کے بعد یہ خیال آیا کہ کیوں نا ماحول دوست توانائی بنائی جائے۔ کوورنا کے توسط سے قدرت نے اپنی طرف انسانوں کی بھرپور توجہ دلوائی اور اپنی دی گئی نعمتوں کی اہمیت کا اعتراف کروایالیکن انسان نے کب ہار ماننی تھی حالات کی بہتری نے ایک دفعہ پھر سرکشی میں مصروف کردیا۔

جہاں ماحولیات ساری دنیا کا مسلۂ ہے اور دنیا نے اسکے لئے بڑے بڑے فورم بنائے ہوئے ہیں قاعدے قانون طے کر رکھے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان پر عمل واجبی سا ہوتا رہا، یہ انسان کی فطرت میں جب تک کام چلتا ہے وہ چلاتا رہتا ہے اورجیسے ہی جان پر بننا شروع ہوتی ہے تو وہ دوسروں کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ بظاہر تو دنیا ماحولیات کو سازگار بنانے کے ایک نقطے پر متفق ہے یکجا ہے لیکن ٹھنڈے کمروں میں کھڑے ہوکر تقریر کرنے سے جب بات آگے بڑھتی ہے اور دنیا آپ کی تقریر کو عملی طور پر دیکھنے کی خواہش ظاہر کرتی ہے تو آپ کا سیاسی نظام سب کچھ تہس نہس کردیتا ہے۔ کیونکہ یہاں تو سب کچھ دیکھاوے کیلئے اور تختیاں لگانے کیلئے ہوتا چلا آرہا ہے۔ ذاتی طور پر حکومت وقت سے کافی توقع رکھتا ہوں کہ یہ ماحولیات کے لئے بنائی گئی وزارت کی چھتری کے نیچے اتنے اقدامات طے کردے گی کہ آنے والوں کے ساتھ عوام خود نمٹ لے گی۔

ہم بطور پاکستانی جہاں پاکستان کو اپنے سبز ہلالی پرچم کی طرح سبز کرنے پر کمر کسے ہوئے ہیں وہیں ہمیں اس ایک نقطے پر تمام سیاسی ناچاقیاں بالائے طاق رکھ دینی چاہئیں، ماحول دوست اقدامات کسی ملک کیلئے نہیں ہیں، کسی خطے یا براعظم کیلئے نہیں ہیں یہ کائنات میں زمین کے وجود کو زندہ رکھنے کیلئے اور شائد قیامت سے پہلے قیامت کو روکنے کیلئے کئے جا رہے ہیں، قدرت نے جو قدرتی ماحول دیاتھا ہمیں اب کہیں جاکر سمجھ آرہا ہے کہ وہی ماحول انسانوں کے رہنے کیلئے سب سے بہترین ہے آخیر میں کورونا وبا ء کو دیکھ لیجئے اس نے بھی انسانیت کو انسانیت کا سبق یاد کروادیا ہے۔ ماحول کی آلودگی کسی بھی قسم کی ہو ناقابل ِ برداشت ہی ہوتی ہے۔ اسلئے تہیہ کیجئے ہر طرح کے ماحول کو انسانی بقاء کیلئے بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کیلئے بہترین بنانے کیلئے سب ساتھ مل کر کام کرینگے۔

اپنی ایک درد مندانہ تجویز کیساتھ مضمون کا اختتام کرونگا کہ خدارا ہر قسم کا اسلحہ بنانے اور چلانے کی خواہش کو ختم کردیں، بھائی چارے کو فروغ دینے کیلئے حکمتِ عملیاں ترتیب دیں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے ہر ملک کا آسمان ایک دم نیلا فضائی آلودگی سے پاک دیکھائی دے گااور کورونا جیسی موذی وبائیں خود ہی دم توڑ جائینگی۔ انشاء اللہ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اوائل جنوری
  • داستاں میں آج شب اک ایسا منظر آگیا
  • واہ! محمد علی سدپارہ
  • میلے میں گر نظر نہ آتا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اردو زبان و ادب کی تدریس
پچھلی پوسٹ
ہم ڈوب رہے ہیں ہار جیت کے درمیان!

متعلقہ پوسٹس

25 دسمبر کا امتیاز … ولادتِ قائد اعظمؒ!

دسمبر 25, 2025

دلاسے بیچنے آتی ہے

دسمبر 26, 2024

کہاں ہوتے ہوۓ احساس

اکتوبر 15, 2025

کمال خود ہی چھلکنے لگا عبارت سے

مئی 9, 2020

جن دنوں مجھ کو بہت پیار ہوا کرتا تھا

مارچ 19, 2022

کورونا میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی خدمات

جون 10, 2020

یکم اپریل:جھوٹ کا عالمی دِن!

اپریل 1, 2022

بددعائوں سے ڈرتا ہوں

مئی 2, 2024

چکوترا ۔ بیماریوں کے خلاف موثر غذا

نومبر 14, 2021

دیوتاؤں کے دیوتا

اکتوبر 2, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

چڑ چڑانے کی بات کرتے ہو۔۔۔۔!!!

جون 25, 2025

ٹیڑھی لکیر

جنوری 15, 2020

میرا جسم میری مرضی

مارچ 10, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں