خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ احمد ندیم قاسمیوحشی
احمد ندیم قاسمیاردو افسانےاردو تحاریر

وحشی

ایک افسانہ از احمد ندیم قاسمی

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 29, 2019
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 29, 2019 0 تبصرے 438 مناظر
439

وحشی

’’آ گئی۔‘‘ ہجوم میں سے کوئی بولا اور سب لوگ یوں دو دو قدم آگے بڑھ گئے جیسے دو دو قدم پیچھے کھڑے رہتے تو کسی غار میں گر جاتے۔
’’کتنے نمبر والی ہے؟‘‘ ہجوم کے پیچھے سے ایک بڑھیا نے پوچھا۔
’’پانچ نمبر ہے۔‘‘ بڑھیا کے عقب سے ایک پنواڑی بولا۔
بڑھیا ہڑبڑا کر ہجوم کو چیرتی ہوئی آگے بڑھنے لگی کہ سب لوگ بس کے بجائے اسے دیکھنے لگے۔
’’عجیب وحشی عورت ہے۔‘‘ ایک شخص نے اپنی ٹھوڑی سہلاتے ہوئے کہا۔ ’’لے کے جبڑا توڑ ڈالا۔‘‘
’’ابے پاگل ہوئی ہے کیا؟‘‘ ایک اور نے فریاد کی۔

اتنے میں بس آ گئی۔ کنڈکٹر نے کھڑاک سے دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔ ’’پہلے عورتیں۔‘‘
ہجوم کے وسط میں پہنچی ہوئی بڑھیا رک گئی۔ ہجوم نے بڑی ناگواری سے دو حصوں میں بٹ کر اسے راستہ دے دیا۔
بڑھیا نے سر پر سے چادر اٹھا بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ پھر چادر کے ایک پلّو کو مٹھی میں پکڑ لیا اور دو رویہ ہجوم پر فاتحانہ نظر ڈال کر کنڈکٹر سے کہنے لگی ’’تیری ماں نے تجھے بسم اللہ پڑھ کر جنا ہے لڑکے۔‘‘

’’چل آ بھی مائی۔‘‘ کنڈکٹر نے شرما کر کہا۔
’’رستہ تو میں ویسے بھی بنا لیتی۔ آدھا تو بنا بھی لیا تھا پر تُو نے جو بات کہی وہ ہزار روپے کی ہے۔‘‘ بڑھیا نے بس کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی وہ دوسری کو ہاتھ سے جکڑ کر یوں بیٹھ گئی جیسے بہت بلندی پر پہنچ کے چکرا گئی ہو۔ کنڈکٹر نے اسے تھام لیا۔ ہاتھ پکڑ کے اٹھایا اور دروازے کے سامنے ہی ایک نشست پر بٹھا دیا۔ پھر سب لوگ بس میں بھر دیے گئے، اس ریلے میں کنڈکٹر بس کے پرلے سرے پر پہنچ گیا۔

بڑھیا نے ذرا سا اٹھ کر، نشست کو ہاتھ سے ایک دو بار دبایا اور آہستہ سے بولی۔ ’’بڑی نرم ہے۔‘‘ بس چلی تو اس نے دائیں طرف دیکھا۔ ایک گوری چٹی عورت، دودھیا رنگ کی صاف ستھری ساڑھی پہنے، سنہرے فریم کی عینک لگائے، سفید چمڑے کا پرس ہاتھ میں لیے بیٹھی کھڑکی سے باہر دیکھے جا رہی تھی۔
بڑھیا نے بھی گردن کو ذرا سا کھینچ کر باہر دیکھا۔ ہر چیز پیچھے کی طرف بھاگی جا رہی تھی۔ وہ آنکھیں مل کر سامنے دیکھنے لگی، پل بھر بعد اس نے گوری چٹی عورت کی

طرف دوبارہ دیکھا۔ پھر اپنی انگشتِ شہادت اس کے گھٹنے پر بجا دی۔ عورت نے بھویں سکیڑ کر بڑھیا کی طرف دیکھا تو وہ بولی ’’چکر آ جائے گا، باہر مت دیکھو۔‘‘
گوری چٹی عورت مسکرائی اور بولی ’’مجھے چکر نہیں آتا۔‘‘
’’مجھے تو آ گیا تھا۔‘‘بڑھیا بولی۔

’’تمھیں آ گیا تھا تو باہر مت دیکھو، مجھے نہیں آتا، اس لیے میں تو دیکھوں گی۔‘‘عورت نے کہا۔
بڑھیا نے پوچھا ’’کیا تم باہر نہیں دیکھو گی تو تمھیں چکر آ جائے گا؟‘‘
عورت کی مسکراہٹ یکایک غائب ہو گئی اور وہ باہر دیکھنے لگی۔

بڑھیا کو اگلی سیٹ پر ایک عورت کا صرف سر نظر آرہا تھا۔ اس نے بالوںمیں زرد رنگ کا ایک پھول سجا رکھا تھا۔ بڑھیا نے ذرا سا آگے جھک کر پھول کو غور سے دیکھا۔ پھر انگلی سے اپنی ہمسائی کا گھٹنا بجا کر بڑی رازداری سے بولی ’’یہ پھول اصلی ہے کہ نقلی؟‘‘
’’نقلی ہے!‘‘ عورت بولی۔

’’نقلی ہے تو سونے کا ہو گا۔‘‘ بڑھیا نے رائے ظاہر کی۔
’’رنگ تو سونے جیسا ہے ‘‘عورت نے کہا۔
’’مجھے تو اصلی لگتا ہے۔ کسی جھاڑی سے اتارا ہے۔‘‘ بڑھیا بولی۔
’’تو پھراصلی ہو گا۔‘‘ عورت نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔

بڑھیا نے ذرا سا حیران ہو کر گوری چٹی عورت کی طرف دیکھا اور پھر انگلی سے اس کا گھٹنا بجا دیا۔
’’کیا ہے؟‘‘ عورت نے بھویں سکیڑ کر پوچھا۔
بڑھیا بولی ’’عجیب بات ہے۔ باہر تم دیکھتی ہو اور چکر مجھے آجاتا ہے۔ ‘‘
عورت ذرا سی مسکرائی۔
’’سنو!‘‘ بڑھیا نے کہا۔

’’کیا ہے؟‘‘عورت نے پھر سے بھویں سکیڑ لیں۔
’’لیڈی ہو؟‘‘ بڑھیا نے سوال کیا۔
’’کیا؟‘‘ عورت نے جیسے برا مان کر پوچھا۔
’’ہسپتال کی لیڈی ہو؟‘‘ بڑھیا نے وضاحت کی۔
’’نہیں!‘‘ عورت بولی۔
’’تو پھر کیا ہو؟‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’کیا کرتی ہو؟‘‘
’’کچھ نہیں کرتی۔‘‘

’’کچھ تو ضرور کرتی ہو۔‘‘ بڑھیا نے دائیں بائیں سر ہلا کر کہا۔
’’ٹکٹ لے لو مائی۔‘‘ بڑھیا کو سر کے اوپر سے کنڈکٹر کی آواز سنائی دی۔
’’دے دو۔‘‘ بڑھیا نے چادر کا پلّو مٹھی سے آزاد کر دیا۔
’’کہاں جائو گی؟‘‘ کنڈکٹر نے پوچھا۔
’’گھر جائوں گی بیٹا۔‘‘ بڑھیا بڑے پیار سے بولی۔

کنڈکٹر زور سے ہنسا۔ گوری چٹی عورت بھی بڑھیا کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگی۔کنڈکٹر نے جیسے تمام مسافروں کومخاطب کر کے کہا۔ ’’میں نے مائی سے پوچھا کہاں جائو گی؟ بولی، گھر جائوں گی۔‘‘

اب کے مسافروں نے بھی کنڈکٹر کے قہقہے کا ساتھ دیا۔
کنڈکٹر بہت محظوظ ہوا تھا۔ اس لیے بڑھیا کو بڑی نرمی سے سمجھاتے ہوئے بولا ’’گھر تو سب لوگ جائیں گے مائی۔ یہ بتائو، میں کہاں کا ٹکٹ کاٹوں؟‘‘
’’والٹن کا۔‘‘ وہ بولی۔ ’’میرا گھر والٹن کے پار ایک گائوں میں ہے۔‘‘
مسکراتے ہوئے کنڈکٹر نے ٹکٹ کاٹ کر بڑھیا کو دیا اور بولا ’’ساڑھے پانچ آنے دے دو۔‘‘

’’ساڑھے پانچ آنے؟‘‘ بڑھیا نے چادر کے پلّو کی گرہ کھولتے ہوئے پوچھا۔ ’’ساڑھے پانچ آنے کیسے؟ غوثا کہہ رہا تھا صرف چار آنے لگتے ہیں۔ اس نے تو مجھے صرف یہ گول مول چونّی ہی دی ہے۔‘‘ اس نے چونّی دو انگلیوں کی پوروں میں تھام کر کنڈکٹر کی طرف بڑھا دی۔
کنڈکٹر بولا ’’نہیں مائی۔ چار آنے نہیں، ساڑھے پانچ آنے لگتے ہیں۔‘‘

بڑھیا کی آواز تیز ہو گئی۔ ’’ساری دنیا کے چار آنے لگتے ہیں، میرے ساڑھے پانچ آنے لگ گئے؟ کیوں؟ ہڈیوں کا تو ڈھیر ہوں۔ میرا بوجھ ہی کیا، لے یہ چار آنے۔‘‘
’’عجیب مصیبت ہے۔‘‘ کنڈکٹر کے تیور بدل گئے اور وہ مسافروں کو سامعین بنا کر تقریر کرنے لگا۔ ’’میں تو کہتا ہوں کہ سرکار کو قانون پاس کرنا چاہیے کہ جو پرائمری پاس نہ ہو، بس میں سفر نہیں کرے۔ اب اس مائی کو دیکھیے، میو ہسپتال کے اسٹینڈ سے بس میں بیٹھی ہے۔ والٹن جا رہی ہے، کہتی ہے والٹن جائوں گی اور ساڑھے پانچ آنے بھی نہیں دوں گی۔ اس لیے کہ کسی نے اسے چار آنے ہی دیے ہیں۔‘‘
بڑھیا بچے کی طرح بولی ’’کسی نے کیوں؟ اپنے غوثے نے دیے ہیں۔‘

کنڈکٹر نے سلسلۂ تقریر جاری رکھتے اور اب کے مسکراتے ہوئے کہا ’’اس لیے کہ غوشے نے اسے صرف چار آنے دیے ہیں۔ اب اسے کون سمجھائے کہ بس سرکار کی ہے غوثے کی نہیں، غوثے کی ہوتی تو وہ تم سے چار ہی آنے لیتا۔‘‘

’’کیوں، وہ کیوں لیتا چار آنے؟‘‘ بڑھیا بولی ’’وہ تو میرا بھتیجا لگتا ہے۔ کمائو ہے، روز اپنے ریڑھے پر دودھ لاتا ہے۔ آج میں اسی کے ریڑھے پر توآئی تھی۔ چار آنے چھوڑ چار پیسے بھی نہیں مانگے۔ اس کی مجال تھی جو مانگتا؟ گود میں کھلایا ہے۔ اس کی سالی یہاں ہسپتال میں بیمار پڑی ہے ۔ میں نے کہا چلو، اسے دیکھ لوں۔ اسی ریڑھے پر واپس آ جائوں گی۔ مگر آج لڑکی کی حالت اچھی نہیں، اس لیے غوثا وہیں رہ گیا اور مجھے یہ چوّنی دے کر کہا ہے کہ گھر چلی جائوں۔ اب تم ساڑھے پانچ آنے مانگ رہے ہو۔ یوں کرو مجھے کسی چار آنے والی جگہ پر بٹھا دو۔ میں کسان عورت ہوں، نیچے بھی بیٹھ جائوں گی۔ تم کہیں اس نرم نرم گدّے کے تو ساڑھے پانچ آنے نہیں مانگ رہے؟‘‘
’’نہیں مائی۔‘‘ کنڈکٹر نے تنگ آ کر کہا۔ ’’سب سواریوں کے نیچے ایسے ہی گدّے ہیں۔‘‘
بڑھیا نے حیران ہو کر پوچھا ’’تو پھر میں کیا کروں؟‘‘

ڈیڑھ آنہ اور نکالو۔‘‘ کنڈکٹر بولا۔
’’کہاں سے نکالوں؟‘‘ وہ بولی۔ ’’بتا جو رہی ہوں کہ گھر سے خالی ہاتھآئی تھی۔ یہ چوّنی بھی غوثے نے دی ہے۔ کل اسے لوٹا دوں گی۔‘‘
کنڈکٹر صاف طور سے اپنا غصہ ضبط کر رہا تھا۔ بولا ’’مجھے تو آج ہی چاہیے مائی، میں ٹکٹ کاٹ چکا ہوں۔ جلدی کرو۔ بہت سے اسٹینڈ گزر چکے ہیں، کئی سواریاں جمع ہو گئی ہیں۔ سب کے ٹکٹ کاٹنے ہیں۔ کوئی چیکر آ گیا تو جان آفت میں کر دے گا۔ بھئی لوگو! خدا کے لیے اس مائی کو سمجھائو۔ جانا والٹن ہے اور کرایہ ماڈل ٹائون کا بھی نہیں دے رہی۔ پھر کہتی ہے، چوّنی سے زیادہ ایک کوڑی بھی نہیں ہے۔‘‘

بڑھیا کی اگلی نشست پر بالوں میں پھول سجا کر بیٹھی ہوئی عورت نے پلٹ کر کہا۔ ’’ایسیوں کی تلاشی لینی چاہیے۔ اس کی جیبیں اکنیّوں دونیوّں سے بھری ہوتی ہیں۔‘‘
بڑھیا اس کے سر کے اوپر چیخ اٹھی۔ ’’کیا تو میرے بیٹے کی گھر والی ہے کہ تجھے میری جیبوں کا حال بھی معلوم ہے۔ سر میں کوڑی کا پھول لگا لینے سے بھیجے میں عقل نہیں بھر جاتی بی بی رانی۔‘‘

پھول والی عورت دانت کچکچا کر رہ گئی۔
گوری چٹی عورت نے بڑھیا کا بازو پکڑ کر اسے سیٹ کی طرف کھینچا اور وہ بیٹھ گئی۔
’’عجیب وحشی عورت ہے۔‘‘ کسی کی آواز آئی۔

’’یہ کون بولا؟‘‘ بڑھیا نے پلٹ کر بس کے آخری سرے تک نظریں دوڑائیں۔ ذرا ایک بارپھر بولے کہ میں اس کی زبان یوں لمبی لمبی کھینچ کر کھڑکی سے باہر پھینک دوں۔‘‘
گوری چٹی عورت کو جھُرجھُری سی آ گئی۔ وہ یوں سمٹ گئی جیسے بڑھیا نے سچ مچ لٹکتی اور خون ٹپکاتی ہوئی زبان اس کے اوپر سے گزار کھڑکی سے باہر اچھال دی ہے۔
’’دیکھ مائی۔‘‘ کنڈکٹر جواس دوران میںدوسرے مسافروں کے ٹکٹ کاٹنے لگا تھا، اس کے قریب آ کر سختی سے بولا۔ ’’ساڑھے پانچ آنے دے گی یا نہیں؟‘‘
’’تُو تو تھانیداروں کی طرح بولنے لگا لڑکے۔ کہہ جو رہی ہوں کہ چوّنی یہ رہی، باقی رہے چھے پیسے تو وہ میں تجھے پہنچا دوں گی۔ کل والٹن میں آ کر بیٹھ جائوں گی، اور تو آئے گا، تو تیرے ہاتھ پر رکھ دوں گی۔ کھرے کر لینا۔‘‘
’’لو اور سنو۔‘‘ کنڈکٹر نے سب مسافروں سے فریاد کی۔

پھر یکایک اس کے تنے ہوئے تیور ڈھیلے پڑنے لگے۔ وہ ایک سفید پوش بزرگ کے پاس جا کر جھک گیا۔
بڑھیا نے انگلی سے گوری چٹی عورت کا گھٹنا بجایا۔ جب عورت نے اس کی طرف دیکھا تو بڑھیا بولی۔ ’’دیکھ رہی ہو؟‘‘
عورت نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ ’’لگتے تو مائی ساڑھے پانچ ہی آنے ہیں، پھر یہ بس سرکاری ہے۔ یہ لڑکا سرکار کا نوکر ہے۔ ایک آنہ بھی کسی سے کم لے تو اپنی جیب سے ڈالے گا یا نوکری چھوٹ جائے گی غریب کی۔‘‘

’’ہے ہے بے چارا۔‘‘ بڑھیا نے پیار سے کنڈکٹر کی طرف دیکھا۔ ’’میں نے تو عمر بھر اپنا رزق اپنے ہاتھوں سے کمایا ہے۔ میں کیوں کسی کے رزق پرڈاکہ ڈالوں چھے پیسوں کے پیچھے! مجھے کیا خبر تھی، وہ غوثا ہی دھوکا دے گیا۔ پر اسے کیا پتا، وہ بیچارا بھی تو ریڑھے پر لاہور آتا ہے، اب کیا کروں؟‘‘
’’یوں کرو۔‘‘ گوری چٹی عورت نے اپنا پرس کھولتے ہوئے کہا۔ ’’میں تمھیں…‘‘

اتنے میں کنڈکٹر آ گیا۔ بڑھیا بولی۔ ’’بھئی لڑکے! مجھے تو خبر نہیں تھی کہ اس طرح…‘‘
کنڈکٹر بولا ’’بس مائی! اب سارا حساب ٹھیک ہو گیا ہے۔ تجھے والٹن پر ہی اتاروں گا۔‘‘
بڑھیا کھل گئی۔ ’’میں نے کہا تھا نا کہ تیری ماں نے تجھے بسم اللہ پڑھ کے جنا ہے۔ پر یہ بتا لڑکے… چوّنی ہی پر راضی ہو جانا تھا تو ساڑھے پانچ آنے کا جھگڑا کیوں چلایا؟‘‘

’’حساب تو مائی ساڑھے پانچ ہی آنے سے پورا ہوا ہے۔‘‘ کنڈکٹر بولا۔
’’تو میں چھ پیسے کہاں سے لائوں؟‘‘ بڑھیا پھر اداس ہو گئی۔
’’چھے پیسے مجھے مل چکے۔‘‘ وہ بولا۔ ’’ اس چودھری نے دیے ہیں۔‘‘ کنڈکٹر نے سفید پوش بزرگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’کیوں دیے ہیں؟‘‘ بڑھیا نے حیران ہو کر پوچھا۔
’’کنڈکٹر بولا ’’ترس کھا کر دے دیے۔‘‘

بڑھیا اٹھنے کی کوشش میں نشست پر گر پڑی۔ ’’کس پر ترس کھایا؟‘‘ وہ چلّائی۔
’’تم پر اور کس پر‘‘ کنڈکٹر بولا۔
بڑھیا بھڑک کر اٹھی اور چیخ کر بولی۔ ’’ذرا میں بھی تو دیکھوں اپنے ترس کھانے والے کو…‘‘
گوری چٹی عورت فوراً پرس بند کر کے بڑھیا کی طرف دیکھنے لگی۔
بڑھیا چھت کی راڈ اور سیٹوں کی پشتوں کے سہارے سفید پوش بزرگ کی طرف بڑھتے ہوئے بولنے لگی۔ ’’یہ چھے پیسے کیا تیری جیب میں بہت کود رہے تھے کہ تُو نے ترس کھا کر میری طرف یوں پھینک دیے جیسے کتے کی طرف ہڈی پھینکی جاتی ہے۔‘‘
’’لیجیے! یہ ہے بھلائی کا زمانہ۔‘‘ کوئی بولا۔

سفید پوش بزرگ کا رنگ مٹی کا سا ہو گیا اور بڑھیا بولتی رہی۔ ’’ارے سخی داتا کہیں کے، تُو مجھ پر ترس کھاتا ہے، جس نے ساٹھ سال دھرتی میں بیج ڈال کر پودوں کے اگنے اور خوشے پکنے کے انتظار میں کاٹ دیے، تو ان ہاتھوں پر چھے پیسے رکھ رہا ہے۔ جنھوں نے اتنی مٹی کھودی ہے کہ اکٹھی ہو تو پہاڑ بن جائے اور تو مجھ پر ترس کھاتا ہے؟ کیا تیری کوئی ماں بہن نہیں، ترس کھانے کے لیے؟ کوئی اندھا فقیر نہیں ملا تجھے رستے میں؟ شرم نہیں آتی تجھے ایک کسان عورت پر ترس کھاتے ہوئے!‘‘
پھر وہ کنڈکٹر کی طرف پلٹی۔ ’’یہ چھے پیسے جو اس نے مجھ پر تھوکے ہیں، اسے واپس کر اور مجھے یہیں اتار دے۔ میں پیدل چلی جائوں گی۔ مجھے پیدل چلنا آتا ہے۔‘‘
بڑھیا خاموش ہو گئی۔ بس میں صرف گاڑی چلنے کی آواز آ رہی تھی۔

بس ایک لمحہ بعد اسٹینڈ پر رکی تو بڑھیا سیڑھیوں کی پروا کیے بغیر دروازے میں سے لٹکی اور باہر سڑک پر ڈھیر ہو گئی۔ پھر اٹھی، کپڑے جھاڑے اور ناقابلِ یقین تیزی سے والٹن کی طرف جانے لگی۔
بس میں سے آوازیں آئیں۔ ’’عجیب وحشی عورت ہے!‘‘

احمد ندیم قاسمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دنیا! ہالی وڈ کا اسٹوڈیو بن گئی ہے
  • فضول بحث۔۔۔خطرۂ ایمان
  • معصومیت
  • توبۃ النصوح – فصل ششم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نجات
پچھلی پوسٹ
آخری سیلیوٹ

متعلقہ پوسٹس

جنرل عاصم ملک

اکتوبر 8, 2025

شاہی عظمت اور فنا کے اسرار

دسمبر 1, 2024

ال گلہری

دسمبر 30, 2014

سرودِعشق

مئی 20, 2020

کہنو مجنوں کے مرنے کی

جولائی 5, 2024

اتحاد امت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا...

فروری 22, 2026

وادیِ لالہ زار

اکتوبر 9, 2022

اللہ رب العزت کی زیارت

جنوری 9, 2025

ذرا شیوسار جھیل تک

دسمبر 24, 2025

اصل وراثت

دسمبر 30, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عدالت عظمیٰ کا عوامی سہولت پورٹل

اکتوبر 25, 2025

سو روپے 

اکتوبر 26, 2019

فقر کی روشنی میں پروان چڑھتا...

دسمبر 12, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں