خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اختر شیرانیسرودِعشق
اختر شیرانیاردو افسانےاردو تحاریر

سرودِعشق

از فضّہ مئی 20, 2020
از فضّہ مئی 20, 2020 0 تبصرے 59 مناظر
60

سرودِعشق

اے سازشیریں آواز! اگر تجھے قدرت ہوتی کہ تُونسیمِ بہار کے زمزموں کو درختوں کی سرسبزشاخوں میں مجسّم کر دیتا اور دریا کی موجوں کے ہمہموں کو سنگستانی ساحلوں کی چٹانوں پر دُہرا دیتا۔ اگرتُوسفید کبوتروں کے نازک و ابریشمیں پروں کی پھڑپھڑاہٹوں کو صحراؤں کی بلندیوں سے نشیب کے دامن میں منعکس کر سکتا اور اُن زمرّدیں شاخوں کی طرح، جو صبح کی مستانہ ہوا کے جھونکوں سے لرز لرز اُٹھتی ہیں اُس خاموش زبان کو، جس کے ذریعے دلدادگانِ محبّت اپنے قلبی راز کا اظہار کرتے ہیں، مشتاقوں کے کانوں تک پہنچا سکتا۔ اگر تیرے بس میں ہوتا کہ تُو اپنے روح پرور نغموں سے اُس پرشکستہ روح کو، جو عشق کی رقّتوں اور حسرتوں کے اثرسے مدہوش ہو چکی ہے، ہوش میں لے آتا اور اُس مستانہ ہوا کی طرح، جو غروبِ آفتاب کے وقت، ابر کی طوفانی موجوں کے ہجوم کو، طلائی اور سرخ فام اُفق پر متحرّک کرتی ہے، اسکو ماضی کے شیریں خوابوں کی بلندیوں پر رقصاں کر دیتا تو۔۔۔۔ میرے لیے بھی ممکن تھا کہ میں تیرا ہم آواز ہو کر۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس وقت جبکہ میری سلمیٰ، گلاب کے شرابی پھولوں کی سیج پرمحوِاستراحت ہوتی۔۔۔۔۔ اُسے اپنے جوان آرزو عشق کا ایک دلگداز نغمہ سنانا، صبح کی شبنم کی طرح اُس کے، گلبرگ رخسار پر، آنسوؤں کے موتی لُٹاتا اور صبا کی طرح اُس کی حسین و شیریں روح تک اپنی فدائیت کا پیغام پہنچاتا اُس کے ملائک فریب عارضوں کے آگے سرجھُکاتا اورآہستہ آہستہ اُس کے کان میں کہتا کہ "اے میری زندگی کے درخشاں آفتاب
لے آفتاب آیا ہے تیرے سلام کو پھولوں نے مسکرا کے لیا تیرے نام کو
اُٹھ خوابِ ناز سے شہِ حسن و جمال اُٹھ
تاکہ میں تیری سیاہ و درخشاں آنکھوں میں، اپنی ہستی کی سرنوشت کا مطالعہ کروں، آنکھ اُٹھا اور کچھ دیر میری طرف دیکھو کہ تیری جانفزا نگاہیں میری خستہ و حزیں روح کے نزدیک آفتاب کی اُن اولّین شعاعوں سے زیادہ عزیز ہیں، جن کی آرزو ایک بے صبر آنکھ کا دائمی وظیفہ بنی رہتی ہے۔ ”
زبان کھول! کچھ سنا!۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ تیری دلربا آواز میرے دل پر کس قدر اثر کرتی ہے۔ تیرے شیریں لبوں سے جو کلمہ بھی ادا ہوتا ہے، کسی فرشتے کی صدا معلوم ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ ایسی صدا، جو مجھے اِس دنیاسے دورکسی اور عالم میں پہنچا دیتی ہے۔ اورستاروں کے نیلگوں شبستانوں میں محوِ پرواز کر دیتی ہے جس وقت تیری دلربا آواز میرے سامعے کو حلاوتوں میں ڈبو دیتی ہے، میری شیفتہ و فریفتہ روح، اُس معبد کی طرح، جو راہبوں کے زمزمہ ہائے تقدیس کے ساتھ ساتھ، ناقوسوں کی ہم آہنگ صداؤں سے بھی معمور ہو جاتا ہے۔ ہوش میں آتی ہے اور نغمہ سرائی شروع کر دیتی ہے۔
ایک آواز، ایک فقرہ، ایک لفظ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھرگہراسکوت۔۔۔۔۔۔ میرے لیے یہی کافی ہے۔۔۔۔۔۔ جس وقت تنہائی میں، تیری دل نشین آواز سامعہ نواز ہوتی ہے، میری روح خیال کی گہرائیوں اور بے انتہائیوں تک تجھے پا لیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا تُو نے نہیں دیکھا کہ جب کوئی نہر نغمے گاتی اور زمزمے سناتی ہوئی صحنِ چمن سے گزرتی ہے۔۔۔۔۔۔ سبزہ وشاخسار کی ایک ایک پتی، اُس کی ہلکی سے ہلکی آواز کو اپنے سینے میں محفوظ کر لیتی ہے۔
تجھے اپنی آتشیں نگاہوں سے، میری روح کو شعلہ در آغوش کرنے کا خیال کیوں ہے ؟ روک! آہ، اپنی دلربا آنکھوں کو، اپنی ہوشربا نظروں کو، روک! ورنہ یہ مجھے ہلاک کر دیں گی!۔۔۔۔۔ آ، کہ ہم پہلو بہ پہلو، شانہ بہ شانہ، ہات میں ہات ڈالے۔۔۔۔۔۔۔ اُن آزاد و مسرور سبزہ زاروں میں سیرکریں، لطف اُٹھائیں، حسین و رنگین پھولوں سے دل بہلائیں۔۔۔۔۔۔ کیونکہ کوئی دن جاتا ہے کہ یہ لطیف سبزہ زار خاک میں مل جائیں گے اور یہ روح پرور پھول کملا جائیں گے۔ ایک نیلگوں اور لاجوردی رنگ، جوئبار کے کنارے ایک ٹیلہ ہے، جو اپنی تمام سرسبزیوں کے ساتھ بنت البحر کے حضور میں سرجھکائے ہوئے ہے۔ اُس کی فرسودہ سالخوردہ پیشانی پانی کی نقرئی امواج کی رفعتوں پرسایہ زن ہے دن کو آفتاب اُس پر اپنے محبت بھرے بوسے نچھاور کرتا ہے اور رات کو، نسیم کے شفقت آمیز جھونکے، اُس کے سبزہ کی ایک ایک پتی کو اہتزاز انگیز بنا دیتے ہیں۔

انگور کی ایک جنگلی اور وحشی بیل کی چھاؤں میں ایک عظیم الشان چٹان کے کنارے موجوں کی درازدستیوں نے ایک مختصر سی پناہ گاہ تعمیر کر لی ہے۔ جس میں ایک سفیدکبوترنے آشیانہ بنا رکھا ہے جہاں بیل کی پّتیوں نے ہر طرف چھاؤنی چھا رکھی ہے۔ ندی کی موجیں، رات دن اپنے شیریں زمزمے سناتی ہیں اور دلدادہ کبوتر صبح و شام، رس بھرے گیت گاتا ہے۔ نسیم شبانگاہی، اس سرسبزخلوت میں، بنفشے کی نکہتیں بکھیرتی رہتی ہے۔ درختوں کے سائے پریدہ رنگ رنگ پھولوں کے چہروں کو، سورج کے بیدرد ہاتوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ حسین گلبن کے قریب ایک چھوٹاساچشمہ پھوٹتا ہے اور کسی غم زدہ عاشق کی طرح چپکے چپکے آنسو بہاتا ہے۔
اِس مسرّت انگیز و بے خودی آمیز منظر کے قدموں میں، ندی کی سیم گوں موجیں لہراتی، گاتی اور دھوم مچاتی ہیں۔ اُس کے سرسبزدامن میں صبح کی معطّر ہوائیں خوشبوئیں برساتی ہیں اور اُس کی بلندیوں پر بلبل کی نغمہ طراز آواز، مسکراتی، چھاتی اور پھیل جاتی ہے اور بکھری ہوئی چٹانوں کی خلاؤں میں سے ایک آہ سی بلند ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔
آ کہ چلیں! اِس خلوت سرائے رنگین میں اپنا نشیمن بنائیں۔ دریا کی لازوال موجوں کے قریب اپنی دنیا بسائیں اور اُس وقت تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ آفتاب کی جفا کار شعاعوں سے، بنفشے کی پنکھڑیاں مرجھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم وہیں رنگ رلیاں منائیں!
میری آنکھوں کے تارے ! تیراآسمان وہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ چل، اُس کے سینے میں سماجا اور میری اندھیری راتوں کو اپنے نورسے روشن کر دے !
میرے طائرِ شیریں نوا! تیرا آشیانہ وہی گل زمین ہے اُڑ کر وہاں جا پہنچ! اور وہاں پہنچ کر، نالے کر، مسکرا، ہاؤ ہو میں مصروف ہو، اور نغمے سنا۔۔۔۔۔۔ ! آ کہ کچھ دیر تیرے دل ربا نغموں کی تاثیرسے، دنیا کے غموں کو بھلا دوں۔۔۔۔۔۔ بھول جاؤں اور خواب و خیال کے پرستانی اُفق پر پر پھیلاؤں۔
واحسرتا! ایک دن آئے گا کہ یہ حاسدآسمان اپنے ٹھنڈے سانسوں سے، تیرے نرم و گرم سینے کو حرکت سے محروم اور تیری جوانی کے شاد و شاداب پھول کو پژ مردہ و مغموم کر دے گا۔
ایک دن آئے گا کہ زمانے کے بے درد اور لٹیرے ہاتھ تیرے۔۔۔۔۔۔۔۔ رنگین ہونٹوں سے اُن تمام لذیذ و شیریں بوسوں کو چھین لیں گے۔۔۔۔۔۔ جو تُو نے ابتدائے شباب کی بہاروں میں، پھولوں کی طرح، مجھے عطا کیے تھے، اور اُن کی جگہ نالہ و آہ کی تلخ یادگاریں چھوڑ جائیں گے۔
ایک دن آئے گا کہ تیری مسکراتی ہوئی نرگسی آنکھیں گزرے ہوئے زمانے کی یاد میں خون کے آنسوبہائیں گی، اور تیرے شگوفہ تمثال ہونٹ بیتے ہوئے دنوں کا خیال کر کے ٹھنڈی آہیں بھریں گے۔
لیکن اُس وقت اگر تُو چاہے کہ بھولی بسری یادوں کے پردے اُٹھا کر اپنی فصلِ جوانی کی حسین تصویروں کومجّسم دیکھے اور آہوں اور آنسوؤں کے نقاب اُلٹ کر اپنے ایّامِ شباب کے نظاروں کو متشکل کرے تو۔۔۔۔۔۔۔ میرے دل کی گہرائیوں میں دیکھنا۔۔۔۔۔۔ جہاں تیراسروقامت، طویل مدتوں کے لیے بجنسہ جلوہ کناں ہے اورتیرا گلِ جوانی بے پایاں ایّام کے لیے عطر افشاں!
جب موت کا نادیدہ اور بے رحم ہات ہماری طرف بڑھے گا اور ہماری زندگیوں کی شمعوں کو ایک ایک کر کے گُل کر دے گا۔۔۔۔۔ ہماری روحیں اپنے دیرینہ مسکنوں کو الوداع کہیں گی اور ایک نئی تابندہ تر اور با شکوہ تر دنیا کی طرف سفرکرجائیں گی۔
اِس دینا میں۔۔۔۔۔۔ اِس ابدی آرامگاہ میں۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ کے لیے میرابسترتیرے بستر کے قریب بچھایا جائے گا اور ہمیشہ بچھا رہے گا اور میرے محبت آمیز ہاتھ ابد تک کے لیے تیرے بازوؤں کو اپنے اندر جذب کر لیں گے۔۔۔۔۔۔ جس طرح خزاں کے موسم میں قازیں، اپنے پرانے ٹھکانے چھوڑ کر، دور اُفتادہ سر زمینوں کی طرف پرواز کر جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اُن سر زمینوں کی طرف جو اپنا محبت بھرا آغوش وا کیے اُن کی خاطرسرگرم انتظار رہتی ہیں:۔
(لامارٹین)

اختر شیرانی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اور شیر آ گیا
  • سید علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن
  • دین کے قریب یا دور
  • ترقی کی دوڑ میں بکھرتے رشتے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
فضّہ

اگلی پوسٹ
جدائی
پچھلی پوسٹ
سرِ بازار لُٹ کر بھی دہائی اب نہیں دیتے

متعلقہ پوسٹس

پانچ قبریں

دسمبر 23, 2021

نئے دور کی چالبازیاں

جنوری 13, 2020

بےنظیر بھٹو : جمہوریت کی ادھوری کہانی

دسمبر 27, 2025

توبۃ النصوح – فصل چہارم

اکتوبر 30, 2020

توپوں کی گھن گرج میں امن کی صدا

اکتوبر 12, 2025

بڑھتی ہوئی قیمتوں کا المیہ

مارچ 8, 2026

سودا

ستمبر 18, 2022

نیلی ساڑھی

جنوری 22, 2020

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

سمندر کی گہرائیوں میں

دسمبر 23, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نعرہ

نومبر 15, 2016

ماں کو حنوط کرنا

مئی 14, 2024

نیا سال

نومبر 15, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں