خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےماں کو حنوط کرنا
اردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

ماں کو حنوط کرنا

از سائیٹ ایڈمن مئی 14, 2024
از سائیٹ ایڈمن مئی 14, 2024 0 تبصرے 70 مناظر
71

کوئی رات اس پر اتنی بھاری نہیں تھی۔ کسی رات کا سکوت اتنا گہرا نہیں تھا۔ آج تو دنیا کی ہر چیز، ہر ذرہ اس خاموشی سے چھو کر ایک سکتے میں بدل گیا تھا جیسے بن چاند کی رات میں سمندر کی ہر موج سکوت آموز ہو جاتی ہے۔ یہ گہرا سکوت دنیا کے نشیب و فراز پر بھی طاری ہو چکا تھا۔

گہری تاریکی کو توڑتی ایک کافوری شمع کی ٹمٹماتی لو اس سکون مطلق کی ہیبت کو ایسے بڑھا رہی تھی کہ ہر شے سہمی ہوئی نظر آتی۔ پرہول کالی رات میں گیدڑ کے سر کا خود پہنے کاہن اعظم ’ساروخا‘ تحنیط کے دیوتا ’انپو‘ کی طرح کالی سیاہ چادر اوڑھے، ہاتھ میں سانٹا لیے بھاری قدموں سے حنوط گاہ میں داخل ہوا۔ اس کا چہرہ دیے کی ملجگی روشنی میں سنولائے ہوئے پتھر کی طرح لگ رہا تھا۔

وہ یہ کام کرتے بوڑھا ہو چکا تھا۔ اس کا کام دیوتاؤں کے سامنے پیش ہونے کے لیے لوگوں کے جسم کو تیار کرنا تھا۔ سینکڑوں لوگوں کو اس نے زندگی بعد از موت کے لیے تیار کیا تھا۔ آج اس کے سامنے جو پاک و صاف جسم حنوط کے لیے تیار پڑا تھا کسی عام انسان کا نہیں اس کی اپنی منہ بولی ماں ’سلیخا‘ کا تھا۔ اس لاش کو ’ایبو کیمپ‘ میں کھجور کی خوشبودار شراب اور نیل کے پانی میں غسل دے کر میز پر لٹایا گیا تھا۔

ماں کو دیکھ کر کچھ دیر اس پر سکتہ طاری رہا۔ اس کی سانسیں تھم گئیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ دائم حسین و جوان فطرت کی دیوی اور کائنات کی ماں ’مت‘ کی طرح ابھی طلوع کی شہابی نیرنگیوں میں مچلتی کف بحر سے نہا کر نکلی ہے۔ وہ اپنی جبلت کے مطابق اس ہستی کی تلاش میں ہے جسے گود میں سمیٹ کر اپنے کلیجے کی حرارت سے سینچ سکے۔

ایک لمحے کے لیے خیال آیا کہ ماں اٹھ کر بیٹھ جائے گی اور اسے گلے سے لگا کر پیار کرے گی۔

آج بھی اس کے چہرے پر وہی ممتا کی عظمت جھلک رہی تھی۔ وہ حوصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ اپنی ماں کو موت کے اندھیروں کے حوالے کر دے۔ صبح سے وہ دیوی کے سامنے سرنگوں دعا گو تھا،

”اے نیفتھیس، اے اندھیروں کی ماں، اے موت کی دیوی، تو جو روحوں کی محافظ ہے، تو جو زمین کی کوکھ میں پلی اور آسمان کی گود میں پروان چڑھی ہے، اس زنجیر گراں خوابی کو توڑ دے، میری ماں مجھے واپس دے دے۔“

خداؤں کی سب سے ناروا بات یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی نہیں کرتے۔ جس طرح وہ خود مدامی و لافانی ہوتے ہیں، ان کے کٹھور فیصلوں کو بھی مداومت کا درجہ حاصل ہے۔

انسانیت ٹرپتی رہے وہ سنگ دل، پتھر جسم کے مالک موم نہیں ہوتے۔

اس نے اپنی حقیقی ماں نہیں دیکھی تھی۔ باپ بادشاہوں کی وادی میں فرعون کا مقبرہ تیار کرنے کے لیے دریا کے پار رہتا تھا۔ کبھی کبھار چھٹی مل جاتی تو ملنے چلا آتا۔ سلیخا اس کے لیے سب کچھ تھی۔ بہنوں کی ساتھ اس کی گاڑھی چھنتی تھی لیکن سارا دن وہ اس کے گھر میں ہی کھیلتا رہتا۔ وہی اسے کھلاتی پلاتی۔ کھیلتے کھیلتے کبھی چوٹ لگ جاتی تو وہ اسے اٹھا کر اپنے سینے کے ساتھ چمٹا لیتی۔ ماں کا دل اس کے کانوں میں ایسی خوفناک آواز سے دھڑکتا جیسے نیل کی النداھیہ اپسرا اونچی آواز میں شور مچا رہی ہو۔ تیز دھڑکن سن کر سروخا اپنی تکلیف بھول جاتا۔ وہ خاموش ہو جاتا تو النداھیہ کی آواز بھی دھیرے دھیرے نرم اور دھیمی پڑ جاتی۔ دل اس کے کانوں میں ٹھہر کر خاموش ہو جاتا وہ مدہوش ہو کر سب دردیں بھول جاتا۔

ماں کسی اپسرا کی طرح کشیدہ قامت لچیلے انداز کی عورت تھی۔ اسی کی گود میں سروخا نے دیوتاؤں کہ کہانیاں سنیں۔ ان کی خوفناک وارداتیں پڑھیں لیکن اس کا دل ماں کے پیار کی وجہ سے مضبوط ہوتا گیا۔ اتنا مضبوط کہ کسی فرعون یا خدا کی ہیبت اسے ڈراتی نہیں تھی۔ شاہی خاندان کے تمام افراد کو اس نے ہی حنوط کیا تھا، اس فرعون کو بھی، جو دیوتاؤں کی اولاد تھا۔ جس کی رخصتی پر اراکین مملکت خوفزدہ ہو کر زمین بوس ہو گئے تھے، کاخ امرا کانپ اٹھے تھے وہ جس نے آسمانوں میں پہنچ کر سورج کی طشتری کے ساتھ ملاپ کرنا تھا، اس کا پیٹ چاک کرتے وقت بھی دہشت اس کی قریب نہیں پھٹکی تھی۔

لیکن آج کی رات اس کے لیے انتہائی مشکل اور تکلیف دہ تھی۔

رات گہری ہوئی تو گرم ہوا بھی ٹھنڈی ہو گئی بالکل اس کے جسم کی طرح۔ نیل سے آنے والی اس ٹھنڈی ہوا میں نرسلوں اور کنول کے پھولوں کی خوشگوار مہک شامل تھی۔ سروخا نے اپنے بال صاف کر کے نہا لیا تھا۔ پاک صاف ہو کر خود کو ذہنی طور پر تیار بھی کر لیا۔ ماں اب مردہ حالت میں اس کے سامنے پڑی تھی۔ انسان کو فانی ہونے کا نام دیوتاؤں نے اپنے سینے کی جلن کم کرنے کے لیے دیا ہے اصل بات یہ ہے کہ وہ بہائم کی طرح اپنی طبعی عمر پوری کر کے فنا ہونے کے لیے نہیں بنا وہ بھیس بدل کر ایک جنم سے دوسرے جنم میں منتقل ہوتا ہے۔ تناسخ اسے بھی لافانی بنا دیتا ہے۔ یہ سروخا کی‌ مذہبی ذمہ داری تھی اور یہی اس کے پیار کا اظہار بھی کہ عارضی دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنے والی زندگی کی طرف ماں کا سفر اچھا اور پر سکون بنا دے۔

ماں آج بھی اتنی ہی وجیہ تھی۔ وہ بال جن کی سیاہی افریقہ کی کالی گھٹاؤں کو شرماتی تھی گرچہ سفید ہو چکے تھے لیکن ان میں اب بھی نیل کے دریائی کنول کی مہک لہرا رہی تھی۔ ماں کے ہونٹ جن سے وہ اسے پکارتی تو خرطوم کے سرخ گلاب کی کرنیں پھوٹنا شروع ہو جاتیں، ٹھنڈے پڑ چکے تھے لیکن ان کی سفیدی سے ابھرتا نور سروخا کی آنکھوں کو روشنی بخش رہا تھا۔ کافوری شمع کی روشنی اس کے جھریوں بھرے پرسکون نورانی چہرے کو اور زیادہ منور کر رہی تھی۔ وہ اس جسم بیجاں کو، اس حسن خوابیدہ کو حسن ذی حیات سے زیادہ دلکش بنا دینا چاہتا تھا۔ ہزاروں سال گزرنے کے بعد اس کے چہرے کی شگفتگی ایسے برقرار رہنا چاہیے تھی جیسے وہ ابھی ابھی سوئی ہے۔

ساتھ کی میز پر پڑے تیز دھار نشتر، لوہے کی میخیں، چاقو اور دوسرے اوزار غول بیابانی کی طرح چمک رہے تھے۔

وہ بوتلیں بھی تھیں جن میں دیودار کی لکڑی کا تیل اور شراب تھی۔ اس کی سامگری میں صحرائی نمک کے ڈبے، کپڑے کی پٹیاں، مر کی خوشبو اور دوسرے عرقیات بھی موجود تھے۔ انسانی اعضا کو محفوظ کرنے کے لیے پتھر کے مختلف سائز کے مرتبان دوسری طرف قطار میں پڑے ہوئے تھے۔ ان مرتبانوں کے ڈھکن دیوتاؤں کے پرتو کی ضوفشانی سے دمک رہے تھے۔ گرچہ یہ سب ادویات و آلات اس کے استعمال میں رہتے تھے لیکن آج یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے تمام اوزار پہلی بار دیکھ رہا ہو۔

دکھی دل کے ساتھ اس نے ایک گہری سانس لی اور میز سے ایک تیز دھار چاقو اٹھا کر بائیں طرف سے پیٹ چاک کر دیا۔ اندر ہاتھ ڈال کر انتریاں، معدہ، جگر، پھیپھڑے سب باہر نکال کر نمک ملے نیل کے پانی سے دھوئے اور انہیں نمک اور تیل میں دبا دیا۔ خون اور ان اعضا کا پانی میز سے نیچے بہنے لگا تو ایک مرتبان نیچے رکھ کر اس میں جمع کرنا شروع کر دیا۔ ان میں نمک ملا کر انہیں بھی محفوظ کر لیا۔

سب سے پہلے دماغ کو ناک کے راستے باہر نکالنا تھا لیکن وہ بوڑھا ہو چکا تھا اور اس کے ہاتھوں میں کچھ لرزش پیدا ہو گئی تھی۔ ماں کے چہرے کی طرف دیکھ کر وہ مزید کانپنا شروع ہو گئے۔ اس نے اپنے بیٹے کو آواز دی کہ وہ یہ کام کرے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ تھوڑی سی بھی غلطی ہو اور ماں کی خوبصورت ناک کو نقصان پہنچ جائے۔ یہ سوچ کر ہی اس کا دل کانپنا شروع ہو گیا تھا۔

ساروخا نے ماں کے سینے کے اندر ہاتھ ڈال کر دل کو تھام لیا۔ دل کو جسم کے اندر سے نکالا نہیں جاتا کیونکہ یہ جذبات اور عقل و شعور کا مرکز گردانا جاتا تھا اور یہ صفات آخرت کی زندگی میں کام آتی ہیں۔ وہ ماں کا دل حنوط کرنے سے پہلے اچھی طرح دیکھنا چاہتا تھا۔ اسے وہ دن یاد تھے جب سروخا کی تکلیف دیکھ کر اس دل کی دھڑکن زور زور سے بجتی تھی اور اسے گود میں لے کر وہی دھڑکن خاموش ہو جاتی۔ آج اس کے ہاتھوں میں وہی دل اتنا خاموش تھا جیسے سروخا اس کی گود میں چپ ہو جاتا تھا۔

اس نے احتیاط سے دل کو حنوط کرنے والی خوشبویات اور نمکیات لگے کپڑے میں لپیٹ دیا۔ سینے کی خالی جھولی کو کھجور کی شراب سے دھویا۔ مر، دوسرے خوشبودار مصالحہ جات اور عرقیات سے اسے بھرا اور ماں کا پرسکون دل اس کے اصلی مالک کو سونپ کر پرسکون ہو گیا۔

پیٹ کے زخم کو انتہائی نفاست سے سی کر بند کیا۔ ماں کے دل کے ساتھ عقل و خرد، جذبات اور یادداشتیں بھی دفن ہو گئیں، اس کی اپنی یادداشتیں بھی۔ اب وہ مطمئن تھا کہ ماں کا دل اس وقت سے زیادہ پرسکون ہے جب وہ اسے اپنے سینے سے لگا کر پیار کیا کرتی تھی۔ آج وہ دل ایسے خاموش تھا جیسے بن چاند کی رات میں سمندر کی ہر موج خاموش ہو جاتی ہے۔ ساکت و صامت اور مطمئن۔

سارے جسم کو نمک میں دبا دیا۔ ماں کل ملا کر تقریباً ستر دن اس کی مہمان رہے گی۔ جس کے بعد وہ دوبارہ دریائے نیل کے متبرک پانی سے غسل دے کر اسے خوشبودار تیل کی مالش کرے گا جس سے جسم ہمیشہ ہمیشہ نرم رہے گا۔ موم لگی کپڑے کی پٹیوں میں لپیٹ کر ممی کی شکل میں محفوظ کر کے لکڑی کے تابوت میں بند کر دے گا۔

پھر صدیاں بیت جائیں گیں۔ وقت ایک نئی کروٹ لے گا۔ وقت جو دیوتاؤں کی رحمت اور برکت ہے، جو گزر بھی جاتا ہے اور ان کی طرح ہمیشہ ہمیشہ رہنے والا بھی ہے۔ خداؤں کے نور کی طرح جاری و ساری ہے۔ نئے ڈھنگ اور نئے اطوار کے اس دور میں، آسمانوں کے اس پار، نیل کے دہانے کے گھنے نرسل اور خوشبودار ناگرموتھا کے تاحد نظر پھیلے ٹھنڈے کھیتوں جیسی جنت میں، جگنووں کی روشنی سے دمکتے مہندی کے پودوں سے، مہکتی چمکتی بہشت میں جب روح اور جسم کا دوبارہ ملاپ ہو تو تناسخ کے دیوتا بھی اپنی تخلیق کا نیا جنم دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔

یہ سوچ کر سروخا کی بے قراری کو قرار آ گیا۔

سید زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • صرف دعا فرما دیں
  • ترقی یا پستی
  • بی زمانی بیگم
  • زندگی کی سب سے بڑی خواہش
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اللہ رب العزت کی زیارت
پچھلی پوسٹ
ستاروں سے کہہ دو

متعلقہ پوسٹس

شبِ نیلوفر

دسمبر 13, 2024

آئینے میں

مئی 21, 2020

اقبال احمد ساجد

مارچ 28, 2020

پڑھے کلمہ

جنوری 24, 2020

یوم یکجہتی کشمیریوم استحصال کشمیر

اگست 6, 2020

چغد

فروری 11, 2020

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

سیاسی سنگ میل میں خاص دن

اکتوبر 12, 2025

لالچ

مارچ 25, 2022

خلیفہ اول

جولائی 6, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

فطرت کے دامن میں خاموش جذبات

نومبر 24, 2024

انگور – چھوٹی چیز بڑے فائدے

اکتوبر 21, 2021

اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک

نومبر 12, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں