خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباچھوٹے گھر بڑے لوگ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعامر جٹ

چھوٹے گھر بڑے لوگ

از عامر جٹ جون 13, 2020
از عامر جٹ جون 13, 2020 0 تبصرے 41 مناظر
42

” چھوٹے گھر بڑے لوگ "

ابھی کچھ ہی برس پہلے کی تو بات ہے جب عموماََ لوگوں کے گھر ایک کمرے پر مشتمل ہوا کرتے تھے جو لوگ معاشی لحاظ سے کچھ بہتر تھے انکے گھر بھی دو ہی کمروں پر مشتمل ہوا کرتے تھے اور ایسے گھروں میں بسنے والے افراد کی تعداد عموماََ دس سے کم نہیں ہوا کرتی تھی۔ اسی ایک کمرے گھر کے بڑے بزرگ انکے آٹھ آٹھ دس دس بیٹے بیٹیاں درجنوں پوتوں پوتیاں سما جایا کرتے تھے۔ گھر کے افراد مل جل کر کام کرتے اور گھر میں وقوع پذیر ہونے والی خوشیاں اور غم مل جل کر بانٹ لیتے۔ گھروں کی چار دیواری بھی نہیں ہوا کرتی اور اگر کسی نے کوئی پتھروں سے چھوٹی موٹی دیوار بنا لی ہو یا کانٹوں کی باڑ لگا بھی لی ہو تو بھی کوئی دروازہ کوئی مین گیٹ نہیں ہوتا تھا بس ایک طرف سے آنے جانے کے لئے راستہ چھوڑ دیا جاتا تھا۔ لوگوں کے پاس دو جوڑے کپڑوں کے ہوا کرتے ایک کہیں آنے جانے کے لئے اور ایک عام استعمال کے لئے جسے وہ جوہڑ یا تالاب پر دھو کر سوکھنے کے لئے پھیلا دیتے تھے اور جب تک وہ سوکھتا تھا تب تک خود تالاب میں نہاتے رہتے۔ استری بھی بہت خاص چیز تھی جو کوئلوں سے گرم کی جاتی تھی اور ہر کس و ناکس کو دستیاب نہ تھی عموماً لوگ بستر کے نیچے کپڑے رکھ دیتے جو کچھ نہ کچھ سیدھے ہو جاتے۔
دودھ کو لوگ ” اللہ کا نور” سمجھتے تھے اور بیچنا گناہ، اگر کوئی لینے آ جاتا تو اسے بلا معاوضہ دے دیا جاتا۔ اگر کسی کے گھر فوتگی ہو جاتی تو سب سے پہلے تدفین تک علاقے میں تمام تر کام کاج بند کر دئیے جاتے چاہے فوتگی دشمن ہی کی کیوں نہ ہوئی ہو۔ فوتگی والے گھر آنے والے مہمان، رشتے دار اور محلے والے آپس میں بانٹ لیتے تا کہ لواحقین پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ آئے اور کم از کم ہفتہ بھر فوتگی والے گھر چولہا نہ جلنے دیا جاتا، انکے کچن کی ذمہ داری بقیہ رشتے دار اور محلے والے اٹھاتے۔ اسی دوران اگر کسی کی شادی ہوتی تو اسے موخر کر دیا جاتا یا پھر کسی مجبوری کے تحت شادی کرنا ناگزیر ہی ہوتا تو اس ڈھول باجے نہ بجائے جاتے اور تمام رسومات انتہائی سادگی سے کی جاتیں اور اس بات کا خیال رکھا جاتا کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے مرحوم کے لواحقین کی دلآزاری ہوتی ہو۔
اگر کسی کا کام جلدی ختم ہو جاتا تو وہ گھر آ کر سو نہیں جاتا بلکہ اپنے کسی رشتے دار، دوست یا پڑوسی کے کام میں مدد کرانے پہنچ جاتا۔ کسی کا تعمیراتی کام ہوتا تو اسے صرف معمار کی حاجت ہوتی بقیہ مزدوری کو دوست رشتے دار دستیاب ہوتے۔
لوگ صبح جلدی اُٹھنے کے عادی تھے دن بھر کام کاج کرتے اور مغرب تک اپنے کام نمٹا کر گھر آ جاتے اور پھر رات کا کھانا کھانے کے بعد سب بہن بھائی گپ شپ لگاتے ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹتے کوئی بزرگ کوئی کہانی سناتا ایک دوسرے کو لطیفے سناتے اور پہیلیاں ڈالتے ۔
یہ وہ لوگ تھے جنکے بچے سانجھے، عزتیں سانجھی، بزرگ سانجھے، خوشیاں اور غم سانجھے تھے۔ جوان لڑکے لڑکیاں اکٹھے کھیلا کرتے تھے مگر کسی کو شبہ تک نہ ہوتا کہ اس اخلاط میں انکی بچی کی عزت محفوظ نہیں ہے بغیر دروازے اور بغیر چاردیواری کے ان گھروں میں چادر اور چاردیواری(گھر) دونوں ہی محفوظ تھے ۔
اگر کسی گھر کا کوئی سپوت بیرونِ ملک چلا جاتا یا کسی اچھی ملازمت پہ لگ جاتا تو اس گھر کے معاشی حالات اچھے ہونے لگتے تو کوئی ان سے حسد نہ کرتا بلکہ سب اس بات سے خوش ہوتے اور یونہی اُسکے گھر والے اپنی خوشحالی میں اُن تمام لوگوں کو شریک کر لیتے۔ "کماؤ پُت” سب کے لئے حسبِ استطاعت تحائف بھی لاتا اور بوقتِ ضرورت مالی امداد بھی کرتا۔
ان لوگوں کی خوراک بھی انتہائی سادہ تھی صبح پراٹھے یا روٹیاں لسی سے کھا لی جاتیں دوپہر کو چٹنی، لسی، اچار، ٹماٹر یا خربوزوں کے ساتھ روٹی کھا لی جاتی اور شام کو اکثر اُبلی ہوئی دال ہوتی۔ ہفتے دو ہفتے میں ایک بار آدھا کلو گوشت آ جاتا تو سارا گھر اسکے شوربے سے مستفید ہوتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا۔
بظاہر معاشی طور پر غریب نظر آنے والے کتنی بھرپور اور حقیقی زندگی جیتے تھے انھیں جو دولت میسر تھی جو رشتے خلوص محبتیں اور احساس کی دولتیں میسر تھیں انکا آج کے دور میں تصور بھی مشکل ہے۔ وہ لوگ معاشی طور پر کمزور لیکن خوش، مطمئن اور ” اپنوں سے محفوظ تھے”. بچوں کو بزرگوں سے محبت اور بزرگوں بچوں سے عزت ادب اور احترام ملتا تھا انکے اندر بغض، حسد، بخل اور لالچ نہیں تھا۔ جسکے پاس جو تھا اُسی پر صابر، شاکر اور مطمئن تھا۔ اُنکے ارد گرد انکے غمخوار انکے چاہنے والے مخلص لوگ بستے تھے جن سے وہ اپنا دکھ درد اور خوشیاں بانٹتے تھے۔ کوئی بھی شخص تنہائی کا شکار نہیں تھا۔ وہ "چھوٹے گھروں میں بسنے والے بڑے لوگ” تھے۔
پھر ایک ایک کر کے وہ لوگ دُنیا سے رخصت ہوتے گئے اور انکی جگہ بالشتئیے آتے گئے جو دکھنے میں قد کاٹھ میں تو انہی جیسے ہیں مگر انکے کردار انکی سوچ انکے جذبات کے قد بہت چھوٹے۔ گھروں کے باہر گیٹ بھی لگ گئے چار دیواری بھی بن گئ مگر نہ چادر محفوظ رہی نہ چاردیواری، دس افراد کے لئے ایک کمرے کی بجائے اب لوگوں نے دس دس کمروں کے گھر بنا لئیے جہان تین سے چار "حقیقی طور پر اجنبی” بس رہے ہیں۔ اب گھر میں دادا دادی کی جگہ ٹی وی صرف کیبل نے لے لی ہے ۔گھر میں اب صرف ٹی وی کو بولنے کی اجازت ہے کوئی بہن بھائی اگر بات کرنا بھی چاہے تو اسے خاموش کرا دیا جاتا ہے کیونکہ ” میرا سلطان ” میرے بھائی سے زیادہ اہم ہے۔ موبائل آیا لوگوں نے سمجھا فاصلے سمٹ رہے ہیں مگر یہ کیا؟؟؟ موبائیل فون نے تو فاصلے بڑھا دئیے اب بچے دودھ مانگتے روتے بلکتے رہ جائیں گے مگر اماں نے تو کینڈی کرش ساگا کی چالیسویں سٹیج مکمل کر کے ہی کسی اور طرف دھیان دینا ہے۔ اب گھر کا ہر فرد کمانے کی ریس میں جُتا ہوا ہے, اور گھر میں ایک بیروزگار بھائی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ گھر تو کھلے ہوتے گئے مگر دل تنگ ہو گئے۔ اب گھروں میں تین وقت مرغن غذائیں پک رہی ہیں مگر بھوک بڑھتی جا رہی اب کسی کے گھر سالن بھیجنے کسی کو اپنے دسترخوان پہ شامل کرنے کی ہمت نہیں رہی ۔ بزرگ بچوں کی محبت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں تو بچے بزرگوں کی شفقت سے۔
جوں جوں پیسہ آتا گیا توں توں "انسان” غریب ہوتا گیا اُسکے رشتے ختم ہوتے گئے دلوں میں حسد ، بخل اور لالچ نے جگہ لے لی فرصت میں بھی کسی کے پاس کسی دوسرے کے لئے وقت نہیں رہا۔ دروازے تو لگ گئے مگر چادر اور چاردیواری کے چور اندر گھس چکے ہیں ۔
لوگ کہتے ہیں زمانہ بدل گیا ہے حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ لوگ بدل گئے ہیں۔ آسائیشوں اور راحتوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے انسان انسانیت کو کہیں پیچھے چھوڑ آیا ہے۔ انسان کی دولت پیسہ نہیں رشتہ ہے، ہم پیسوں کے لئے رشتوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں ہم ہیں بڑے گھروں میں بسنے والے غریب لوگ ۔ اب بھی اگر کسی حقیقی خوشی دیکھنی ہو انسانیت دیکھنی ہو تو دور دراز کے علاقے میں چلے جائیں جہاں جدید دور کی خرافات سے محفوظ کوئی کچا کوٹھا کوئی چھوٹا گھر ہو تو وہاں پر اے انسان تجھے بچھڑی انسانیت کھیلتی کودتی مل جائے گی۔”

عامر جٹ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گاجر کا رس
  • 05 فروری:یوم ِیکجہتی کشمیر!
  • ہوا کے ساتھ کوئی حرفِ چشمِ تر جائے
  • فیلڈ مارشل کا وژن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
عامر جٹ

اگلی پوسٹ
سیر کرنے سے ہَوا لینے سے
پچھلی پوسٹ
دھول آمادۂ سفر ہی نہ تھی

متعلقہ پوسٹس

سکون کی آغوش

دسمبر 15, 2024

آج سوچا ہے کہ ہستی ترا بیاں لکھوں

جولائی 31, 2022

روشنی کا راستہ

اپریل 16, 2025

روشنی پر کبھی بہاروں پر

مئی 29, 2020

سب سے پہلے انہیں رعنائی ودیعت کی ہے

مارچ 24, 2020

دس روپے

اکتوبر 25, 2019

تپسیّا

نومبر 7, 2020

ہنرمند نسل کی تعمیر کیسے کی جائے؟

اکتوبر 13, 2025

لڑکی کا جادو

اگست 7, 2022

خوش ہو رہا ہوں اپنی تب و تاب دیکھ کر

دسمبر 12, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کرونا کی وبا: کیا حکومتی اعداد...

اپریل 6, 2020

معاشی بحران،تجاویز اورایک خواب

جولائی 23, 2022

دیمک بہتر یا کیڑا؟

اکتوبر 27, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں